سرکاری ملازمت میں سی پی فنڈ لاگو ہو گیا جس میں ملازم کی تنخواہ سےرقم کی کٹوتی ہوتی ہے اور ملازم کو کہاگیا ہے کہ اپنے آپ کو رجسٹر کردیں جس میں ملازم کی تنخواہ کی کٹوتی کہیں انویسٹ ہوگی اور اس پر اتنا منافع ہو گا جتنی ملازم سے کٹوتی ہوتی ہے، مجھے اس میں شک ہے کہ یہ صحیح ہے یا نہیں ۔لہذا مہربانی کرکے مجھےاس کا جواب ضرور دیجئے گا۔شکریہ
واضح ہوکہ سی پی فنڈکے لیےملازم کی تنخواہ سے ہونےوالی کٹوتی اگرجبری ہو تو اصل رقم پر ملنے والا اضافہ شرعاً ادارے کی طرف سے تبرع کے حکم میں ہے، اس لیے اپنی جمع شدہ رقم کے ساتھ اضافہ وصول کرنابھی جائز ہے، اور اگر کٹوتی اختیاری ہو تواصل جمع شدہ رقم اور ادارے کی جانب سے ابتدائی شراکت داری کےطورپرجمع کرائی گئی رقم لینا جائز ہے، البتہ اس پر ملنے والا اضافہ اگرکسی جائز کاروبارمیں انویسٹ کرکےمنافع کے طورپر حاصل کیاگیاہوتواس کا لینا جائز ہوگااوراگروہ اضافہ کسی غیرشرعی کاروبارمیں انویسٹ کرکے یاکسی سودی بنک میں ڈیپازٹ کرکے بطورسودحاصل کیاگیاہوتواس کالیناجائزنہیں ہوگا، اور اگر فنڈ میں جبری و اختیاری دونوں قسم کی کٹوتی ہو تو جبری کٹوتی پر ملنے والا اضافہ جائز اور اختیاری کٹوتی پر ملنے والا اضافہ ناجائز ہوگا، اس لئے بہتریہی ہےکہ اس تیسری صورت میں اختیاری کٹوتی کی بقدررقم پرحاصل ہونے والا اضافہ وصول ہی نہ کیا جائے، یا وصول کر کے بغیر نیتِ ثواب کسی مستحقِ کو صدقہ کر دیا جائے۔
کما فی بدائع الصنائع : (و أما) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة ، على أن يرد عليه صحاحا ، أو أقرضه و شرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أنه « نهى عن قرض جر نفعا » ؛ و لأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض و التحرز عن حقيقة الربا ، و عن شبهة الربا واجب ۔ اھ (کتاب القرض ، ج: 7 ، ص: 395 ، ط: ایچ ایم سعید)ـ
وفی البحر الرائق : (قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (کتاب الاجارۃ ، ج: 7 ، ص: 300 ، ط: ماجدیۃ)۔