گناہ و ناجائز

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم

فتوی نمبر :
69412
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میری شادی کو مارچ 2024 میں پانچ سال ہو جائیں گے الحمدللہ،ابھی تک کوئی اولاد نہیں پیدا ہوئی،علاج بہت زیادہ کروایا ہے اور میڈیسن بھی بہت زیادہ یوز کی ہے، ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق، اب ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ آپ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کروا لیں،کیونکہ آپ کے سپرمز ایلیجیبل ہے، ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لیے اور جب بےبی ہو جائے،تو آپ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروا سکتے ہیں کہ آپ کو بالکل کنفرم پتہ چل جائے کہ یہ سپرمز ہم نے آپ کی ہی یوز کیے ہیں کسی اور کے نہیں،اور یہ بچہ آپ کا ہی ہےاور ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے بھی 30 سے لے کے 40 پرسنٹ تک چانس ہوتا ہے کہ بچہ پیدا ہوگا،حضرت والا اس میں اب آپ بتائیں کہ شریعت کا کیا حکم ہوگا؟ میرا اپنا دل نہیں مانتا ،لیکن رشتہ دار مجبور کر رہے ہیں کہ علاج سنت ہے کر لو،میری اپنی سوچ یہ ہے کہ جب اللہ رب العزت نے دینا ہوگا تو ایسے ہی دے دے گا اور اگر نہیں دینا ہوگا تو ٹیسٹ ٹیوب سے بھی نہیں دے گا، کیونکہ ٹیسٹ ٹیوب میں بھی وہی بات ہے کہ 30 سے 40 پرسنٹ تک اس میں چانس ہے ،ضائع بھی ہو سکتا ہے تو جب اللہ نے دینا ہوگا تو مجھے ایسے ہی دے دے گا ،مگر یہ لوگ نہیں مانتے ،تو اب مجھے شریعت کا حکم بتائے کہ میں ان کو شریعت کی بات بتاؤں؟اور حضرت اس کے ساتھ مجھے آپ کا مشورہ بھی چاہیئےکہ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟،اور میرے لیے دعا بھی فرمائے کہ میری کامل اصلاح ہو جائے اور یہ اولاد اللہ رب العزت نیک، اللہ والی اولاد دے دے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اولاد دینا نہ دینا ا للہ تعالیٰ کی قدرت واختیار میں ہے، وہ جسے چاہے اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے، اور جسے چاہے محروم کر دیتا ہے، لہذا اگر سائل اور اس کی اہلیہ کا کوئی طبّی مسئلہ نہ ہو، اور ڈاکٹر حضرات کی ہدایات کے مطابق فطری طریقے کے مطابق اولاد کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتو ایسی صورت میں سائل کو چاہیئے " ٹیسٹ ٹیوب بےبی " کا طریقہ کار اختیار کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اولاد کے حصول کےلئے دعاؤں کا اہتمام کرے،البتہ اگر فطری طریقہ کار کے مطابق اولاد کی پیدائش میں کوئی رکاوٹ ہوتو ایسی صورت میں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے حصولِ اولاد کے لئے سخت مجبوری کے تحت صرف اس طریقے کار کو اختیار کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے کہ مادہ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہواور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کرکے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے،جہاں وہ حمل پرورش پائے،اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی ماہرمعالج عورت سے کروایا جائےاور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے، چنانچہ اگر سائل اہلِ خانہ کے اصرار پر اولاد کی پیدائش کے لئے مذکور طریقہ کار اختیار کرے تو اس کی گنجائش ہے،البتہ اس کے علاوہ باقی تمام طریقے غیر فطری ہونے کے ساتھ غیر شرعی بھی ہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم:لا يحل لامرئ يؤمن بالله و اليوم الآخر أن يسقى ماءه زرع غیرہ اھ(1/293)۔
وفي الفقه الاسلامى:التلقيح الصناعي:هو استدخال المنى لرحم المرأة بدون جماع،فان كان بماء الرجل لزوجته جاز شرعاً،اذ لا محظور فيه،بل قد يندب اذا كان هناك مانع شرعى من الاتصال الجنسي اھ(3/559)۔ واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69412کی تصدیق کریں
2     846
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات