گناہ و ناجائز

فحش تصاویر والی جگہ پر ضرورت کی بنا پر جانا

فتوی نمبر :
69448
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فحش تصاویر والی جگہ پر ضرورت کی بنا پر جانا

کیا میں کسی ایسے جم میں جاسکتا ہوں جہاں خواتین کے فحش پوسٹر لگے ہوں ، میرے شہر میں تقریباً تمام ہی جم اس طرح کے ہیں ، جیسے کہ میں ہندوستان میں رہتا ہوں ، صرف صحت کے لحاظ سے فٹنس کو برقرار رکھنا ضروری نہیں ہے ، بلکہ ہم مسلمان ہونے کی وجہ سے ہجومی تشدد کا بھی سامنا کرسکتے ہیں، جیسا کہ میں نے مقامی مفتی صاحب سے پوچھا ، انہوں نے جواب دیا کہ ہاں پوسٹر سے بچنا بہت مشکل ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے لئے مذکور فحش تصاویر کی طرف دیکھ کر بد نظری جیسے گناہ میں مبتلا ہونا تو جائز نہیں ، اس لئے اس سے ہر ممکن بچنا لازم ہے ، تاہم اگر اس گناہ سے بچنا کوشش کے باوجود ممکن نہ ہوتو قریبی کسی دوسرے جم میں جہاں پر اس طرح کی فحش تصاویر اور برہنہ تصاویر نہ ہو ں، جاسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (النور: 30 الآیة )
و فی الھندیة: و أما النظر إلى الأجنبيات فنقول: يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن و ذلك الوجه و الكف في ظاهر الرواية كذا في الذخيرة و إن غلب على ظنه أنه يشتهي فهو حرام ، كذا في الينابيع. النظر إلى وجه الأجنبية إذا لم يكن عن شهوة ليس بحرام لكنه مكروه اھ (5/395)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69448کی تصدیق کریں
0     573
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات