میرا سوال یہ ہے کہ کسی عورت کے سر میں بہت جوویں ہیں ان کو نکالنے کی ہر کوشش کر چکے ہیں دوائیں بھی استعمال کر چکے ہیں لکن کوئی فرق نہیں ہوا ، کیا وہ عورت اپنے بال بلکل ہی کٹوا سکتی ہے اگر بلکل نہیں کٹوا سکتی تو کاندھوں تک کٹوا سکتی ہے یا پھر کم سے کم کتنے چھوٹے کروا سکتی ہے ؟ کیونکہ اب بال کٹوانے کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آ رہا۔
مسئولہ صورت میں مذکور خاتون نے بالوں سے جوویں ختم کرنے کے لیے اگر ہر ممکن تدبیر اختیار کرلی ہو، لیکن اس کے باوجود بھی جوویں ختم نہ ہوں ، جس کی وجہ سے وہ تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہو، تو ایسی صورت میں اگر بال چھوٹے کرنے کی وجہ سے جوویں ختم ہونے اور اس تکلیف اور اذیت سے ازالہ ممکن ہو تو پھر مکمل طور پر حلق کرنے کے بجائے بقدر ضرورت بال چھوٹے کر دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به وإن فعلت ذلك تشبها بالرجل فهو مكروه كذا في الكبرى اھ (5/ 358)
و في غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: قوله: وتمنع من حلق رأسها. أي حلق شعر رأسها. أقول ذكر العلامي في كراهته أن لا بأس للمرأة أن تحلق رأسها لعذر: مرض ووجع وبغير عذر لا يجوز (انتهى) . والمراد بلا بأس هنا الإباحة لا ما ترك فعله أولى، والظاهر أن المراد بحلق شعر رأسها إزالته سواء كان بحلق أو قص أو نتف أو نورة. فليحرر، والمراد بعدم الجواز كراهية التحريم لما في مفتاح السعادة، ولو حلقت فإن فعلت ذلك تشبها بالرجال فهو مكروه لأنها ملعونة. (3/ 381)۔