میرے والد اور والدہ پچھلے بیس سال سے الگ رہتے ہیں، کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے، اب جاننے والوں سے پتہ یہ چلا ہے کہ والد صاحب انتقال فرماگئے، اس معاملہ میں والدہ پر عدت فرض ہے یا نہیں؟
اگر سائلہ کے والد صاحب نے مذکور بیس سال کے عرصہ میں اپنی بیوی (سائلہ کی والدہ) کو طلاق نہ دی ہو تو صرف الگ رہنے اور رابطہ منقطع کرنے کی وجہ سے سائلہ کی والدہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح برقرار تھا، چنانچہ اب اگر سائلہ کے والد کا انتقال ہوچکا ہو تو سائلہ کی والدہ پر عدت وفات (چار ماہ اور دس دن عدت میں بیٹھنا) لازم ہے۔
ففی القرآن المجید: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (234) [البقرة: 234]
وفی الدر المختار: (و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا) وطئت أو لا ولو صغيرة، (3/ 510)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0