گناہ و ناجائز

میت والے گھر میں تین دن کھانا بھیجنے کا حکم

فتوی نمبر :
69547
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

میت والے گھر میں تین دن کھانا بھیجنے کا حکم

السلام علیکم ! بعض علاقوں میں میت کے گھر والے پہلے تین دنوں میں آئے ہوئے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا فوتگی کے تین دنوں کے اندر میت کے گھر کھانا شرعاً قطعی طور پر حرام ہے ، اگر حرام نہیں ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ رہنمائی فرماکر مشکور فرمائے ۔ جزا کم اللہ خیراً!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اہلِ میت کا اپنی ضرورت کے لئے چولہا جلانا ، اور اسی طرح دوسرے دور سے آئے ہوئے مہمانوں کو کھانا کھلانا ، جبکہ ان کو کھانا کھلانے کی کوئی دوسری صورت نہ ہو درست اور جائز ہے ، البتہ مروجہ رسم و رواج کےمطابق علاقائی لوگوں کا محض کھانے پینے کی خاطر اہلِ میت کے ہاں قیام کرکے انہیں کھانے پینے کے انتظام پر مجبور کرنا ، یا میت کے بعض ورثاء کی عدمِ موجودگی یا عدمِ رضامندی یا نابالغ اولاد کی موجودگی کی صورت میں اس ترکہ سے کھانے پینے کا انتظام کرنا شرعاً جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکٰوۃ المصابیح : عن عبد اللہ بن جعفر قال لما جاء نعی جعفر قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم اصنعوا لاٰل جعفر طعاما فقد اتاھم ما یشغلھم رواہ الترمذی اھ( باب البکاء علی المیت الفصل الثانی ط : قدیمی کتب خانہ) ۔
و فی مرقاۃ المفاتیح : قال الطیبی : دل علی انّہ یستحب للاقارب و الجیران تھیئۃ طعام لاھل المیت اھ و المراد طعام یشبعھم یومھم و لیلتھم الخ ( ج 4 کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت ص 222 ط حقانیۃ ) ۔
و فی ردالمحتار : و قال ایضاً و یکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل المیت لانّہ شرع فی السرور لا فی الشرور و ھی بدعۃ مستقبحۃ ( الی قولہ ) و لا سیما اذا کان فی الورثۃ صغار او غائب ، مع قطع النظر عما یحصل عند ذلک غالبا من المنکرات الکثیرۃ اھ(ج2 کتاب الجنائز ص240 ط : سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69547کی تصدیق کریں
0     1115
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات