میرا سوال یہ ہے کہ میری بیٹی کی بات تین سال پہلے میرے بھانجے سے زبانی طے ہوئی تھی ،اس دورا ن وہ بچی کو اپنے گھر دعوت اور تقریبات پر بلاتے رہے اور اپنے رشتہ داروں کو بتایا کہ یہ میری بہو ہے ،پر تین سال کے بعد جب میں نے ان سے کہا کہ کوئی رسم یا نکاح کرو، تو انہوں نے مجھے اپنے گھر پر بلایا اور کہا کہ استخارہ میں اس رشتے میں بہتری نظر نہیں آرہی ، مجھے یہ پوچھنا تھا کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے کہ اس طرح کرنا ٹھیک ہے ؟جب کہ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مرضی کے مطابق کیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکے والوں کو رشتہ کی بات طے کرنے سے پہلے ہی استخارہ کرلینا چاہیئے تھا ،تاکہ بعد میں کسی قسم کی بدمزگی نہ ہوتی،تاہم اگر سائلہ کی بیٹی کا باقاعدہ نکاح نہ ہوا ہو،صرف زبانی رشتہ کی بات طے ہوئی ہو اور واقعۃً استخارہ میں اس رشتہ کو مزید آگے بڑھانے میں کسی نقصان وغیرہ کا اندیشہ معلوم ہوا ہو، تو اس رشتہ کو آگے بڑھانے سے اجتناب کیا جائے،چنانچہ اس جگہ رشتہ کی بات ختم کرکے سائلہ اپنی بیٹی کا نکاح دوسری جگہ کرواسکتی ہے۔
کما فی البحر الرائق: ومن المندوبات صلاة الاستخارة وقد أفصحت السنة ببيانها فعن جابر قال «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن الخ
وفی منحة الخالق: ومن المندوبات صلاة الاستخارة) قال الشيخ إسماعيل وفي شرح الشرعة من هم بأمر وكان لا يدري عاقبته ولا يعرف أن الخير في تركه أو الإقدام عليه (الیٰ قوله) فإن رأى في منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير وإن رأى فيه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب عنه اهـ (55/2)
وفی الشامیة: قال فی شرح الطحاوی: لوقال ھل اعطیتنہا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقد فنکاح اھ(11/3)واللہ اعلم