گناہ و ناجائز

حرام پیسے والے شخص سے شادی کے اخراجات اٹھانے میں مدد لینا

فتوی نمبر :
69721
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حرام پیسے والے شخص سے شادی کے اخراجات اٹھانے میں مدد لینا

السلام علیکم ! میرا ایک جاننے والا میری شادی کا خرچہ اٹھانا چاہتا ہے 100 فیصد ، لیکن اس کے پاس سود کا پیسہ ہے ، تو کیا میرا نکاح اور شادی ہو جائے گی ؟ اور وہ مجھے ادھار نہیں دے رہا ، بلکہ ساری شادی اسی کے پیسے پر ہوگی جو اس کے پاس ہے ، اور پیسہ میں نے واپس نہیں کرنا ، یعنی ادھار نہیں ، لیکن حق مہر میں اپنے پیسوں سے ہی دینے کی کوشش کروں گا ۔جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا مذکور رشتہ دار سے سود کی رقم لے کر شادی کے اخراجات کی مد میں خرچ کرنے سے اگرچہ میاں و بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑیگا ، بلکہ نکاح درست منعقد ہوگا ، تاہم جب سائل کو اس بات کا علم ہے ، کہ اسے شادی کے اخراجات کے لئے دی جانے والی رقم خالص سود ہونے کی وجہ سے حرام آمدنی پر مشتمل ہے ، تو اس کے لئے محض رسم و رواج کے اخراجات کے لئے حرام رقم وصول کرکے شادی کے اخراجات میں صرف کرنا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الجامع لأحكام القرأن للقرطبي : إن سبيل التوبة مما بيده من الأموال الحرام إن كانت من رباً فليردها على من أربى عليه و يطلبه إن لم يكن حاضراً، فإن أيس من وجوده فليتصدق بذلك عنه ( إلى قوله ) إما إلى المساكين وإما إلى ما فيه صلاح المسلمين الخ ( ج 4، ص 409، ط : دار عالم الكتب ) –
وفي رد المحتار : تحت ( قوله لا يكفر ) سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل منه ( إلى قوله ) لأنه لم يملكه فهو نفس الحرام فلا يحل له ولا لغيره الخ ( مطلب في التصدق من المال الحرام، ج 2، ص 292، ط : سعيد ) –
وفي رد المحتار : تحت ( قوله الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الايدي وتبدلت الاملاك. ( إلى قوله ) وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين. سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام الخ ( مطلب في فعيين الدراهم في العقد الفاسد، ج 5، ص 98، ط : سعيد ) - واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69721کی تصدیق کریں
0     754
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات