السلام علیکم ! میرا ایک جاننے والا میری شادی کا خرچہ اٹھانا چاہتا ہے 100 فیصد ، لیکن اس کے پاس سود کا پیسہ ہے ، تو کیا میرا نکاح اور شادی ہو جائے گی ؟ اور وہ مجھے ادھار نہیں دے رہا ، بلکہ ساری شادی اسی کے پیسے پر ہوگی جو اس کے پاس ہے ، اور پیسہ میں نے واپس نہیں کرنا ، یعنی ادھار نہیں ، لیکن حق مہر میں اپنے پیسوں سے ہی دینے کی کوشش کروں گا ۔جزاک اللہ!
سائل کا مذکور رشتہ دار سے سود کی رقم لے کر شادی کے اخراجات کی مد میں خرچ کرنے سے اگرچہ میاں و بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑیگا ، بلکہ نکاح درست منعقد ہوگا ، تاہم جب سائل کو اس بات کا علم ہے ، کہ اسے شادی کے اخراجات کے لئے دی جانے والی رقم خالص سود ہونے کی وجہ سے حرام آمدنی پر مشتمل ہے ، تو اس کے لئے محض رسم و رواج کے اخراجات کے لئے حرام رقم وصول کرکے شادی کے اخراجات میں صرف کرنا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما في الجامع لأحكام القرأن للقرطبي : إن سبيل التوبة مما بيده من الأموال الحرام إن كانت من رباً فليردها على من أربى عليه و يطلبه إن لم يكن حاضراً، فإن أيس من وجوده فليتصدق بذلك عنه ( إلى قوله ) إما إلى المساكين وإما إلى ما فيه صلاح المسلمين الخ ( ج 4، ص 409، ط : دار عالم الكتب ) –
وفي رد المحتار : تحت ( قوله لا يكفر ) سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل منه ( إلى قوله ) لأنه لم يملكه فهو نفس الحرام فلا يحل له ولا لغيره الخ ( مطلب في التصدق من المال الحرام، ج 2، ص 292، ط : سعيد ) –
وفي رد المحتار : تحت ( قوله الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الايدي وتبدلت الاملاك. ( إلى قوله ) وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين. سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام الخ ( مطلب في فعيين الدراهم في العقد الفاسد، ج 5، ص 98، ط : سعيد ) - واللہ اعلم