گناہ و ناجائز

عورت کی صحت اور بچوں کی تربیت کی غرض سے اسقاط حمل کا حکم

فتوی نمبر :
69755
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورت کی صحت اور بچوں کی تربیت کی غرض سے اسقاط حمل کا حکم

میرے چار بچے ہیں الحمداللہ اور میری بیوی توقع رکھتی ہے ایک اور بچے کی اگلے سال ،کیا ہم عورت کی صحت کے پیشِ نظر حمل وپیدائش روکنے کے لئے کوئی طریقہ اپنا سکتے ہیں؟ کیونکہ اس کی صحت اور زیادہ حمل ٹھہرنے کے متحمل نہیں ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی بیوی کا اپنی صحت اور بچوں کی تربیت کی غرض سے عارضی طور پر مانعِ حمل کوئی تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے، البتہ کوئی ایسی تدبیر اختیارکرنا جس سے بچوں کا سلسلہ مستقل طور پر منقطع ہوجائے، شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:ويكره أن تسقى لإسقاط حملها،وجاز لعذر حيث لا يتصور اھ (6/429)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ:شرب الدواء لاُجل اسقاط الحمل قبل اُن یصیر صورۃ یجوز عند الضرورۃ والکف عن ھذا خیر واُولیٰ اھ(3/216)۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69755کی تصدیق کریں
0     701
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات