میرے چار بچے ہیں الحمداللہ اور میری بیوی توقع رکھتی ہے ایک اور بچے کی اگلے سال ،کیا ہم عورت کی صحت کے پیشِ نظر حمل وپیدائش روکنے کے لئے کوئی طریقہ اپنا سکتے ہیں؟ کیونکہ اس کی صحت اور زیادہ حمل ٹھہرنے کے متحمل نہیں ہے ۔
سائل کی بیوی کا اپنی صحت اور بچوں کی تربیت کی غرض سے عارضی طور پر مانعِ حمل کوئی تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے، البتہ کوئی ایسی تدبیر اختیارکرنا جس سے بچوں کا سلسلہ مستقل طور پر منقطع ہوجائے، شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار:ويكره أن تسقى لإسقاط حملها،وجاز لعذر حيث لا يتصور اھ (6/429)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ:شرب الدواء لاُجل اسقاط الحمل قبل اُن یصیر صورۃ یجوز عند الضرورۃ والکف عن ھذا خیر واُولیٰ اھ(3/216)۔واللہ اعلم