گناہ و ناجائز

ٹی وی کی خریدو فروخت کا کا روبار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
69797
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ٹی وی کی خریدو فروخت کا کا روبار کرنے کا حکم

السلام علیکم !مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ "ٹی وی " کی دکا ن کھولنا جائز ہے یا نہیں؟ مطلب کارٹن پیک ٹی وی یا ایل ای ڈی بیجنا اور خریدنا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ٹی وی کا چونکہ جائز اور مباح استعمال ممکن ہے، اس لئے اس کی خرید و فروخت اور کاروبار مطلقاً ناجائز اور ممنوع نہیں ، تاہم آج کل اس کا استعمال زیادہ تر غلط کاموں میں ہورہا ہے اور اکثر خریدار اسے غیر شرعی امور کے لئے استعمال کرتےہیں، اس لئے ایک مسلمان کےلئے اس کی تجارت اور کاروبار کرنے اور اسے پیشہ بنانے سے احتراز ہی بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فقہ البیوع: والقسم الثالث: ما وضع لأغراض عامة، ويمكن استعماله في حالتها الموجودة فی مباح أو غیرہ۔(الی قولہ) وأما التلفزيون، فمن العلماء المعاصرين من يقول بأن الصور التي تظهر على شاشته داخلة في الصور المنهى عنها ، فهو داخل عندهم فى القسم الأول. وقياس قولهم أن يكون بيعه في حكم آلات الملاهي، وقد فصلنا القول في ذلك فمن هذه الجهة هو داخل في القسم الثالث، فبيعه صحيح منعقد. ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا تخلو من محظور شرعي، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فبما أنّ استعماله في مباح ممكن، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً، إلا إذا تعيّن بيعه لمحظور، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية. وعلى هذا، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمحض أو يكثرفیہ استعمال المباح۔(326/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69797کی تصدیق کریں
0     532
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات