کیافرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ ”۔۔۔۔۔ “نے اپنی بیوی مسماۃ ”۔۔۔۔۔۔“کو غصہ کی حالت میں تین مرتبہ طلاق دی کہ تم مجھ پر طلاق ہو”تہ پہ ما طلاقہ ئے “پھر اپنی ساس کو بھی تین مرتبہ یہی الفاظ بولے تھے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ،ہمارے تین بچے بھی ہیں ان کے خرچ اخراجات کس کے ذمہ ہے ،بڑی بیٹی دس سال ،بیٹا ساڑھے آٹھ سال کا ہے اور چھوٹی بیٹی تقریباً ساڑھے تین سال کی ہے جوبھی شرعی حکم ہوتحریر فرمائیں ۔
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اورمیاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایّام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدت طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج ِاول کےلئےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
جبکہ سائل کی جو بیٹی دس سال اور بیٹا آٹھ سال کی عمر پہنچ چکے ہیں انہیں اگر سائل اپنی تحویل میں لینا چاہے تولے سکتاہے ،البتہ جوبیٹی ساڑھے تین سال کی ہے وہ نوسال کی عمرتک ماں کی پرورش میں رہے گی،بشرطیکہ اس دوران ماں بیٹی کی کسی غیرذی رحم محرم سے نکاح نہ کریں اور اس دوران پرورش پرآنے والے تمام ضروری اخراجات سائل کےذمہ لازم ہونگے ۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآیہ (البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثاقال: لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)۔
کمافی الدرالمحتار: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ(3/244)۔
وفیہ ایضاً : (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.(3/566)۔