سود

ایزی پیسہ وغیرہ کے اکاؤنٹ میں پیسہ رکھنے پر ملنے والے انعام کا حکم

فتوی نمبر :
70165
| تاریخ :
2024-01-05
معاملات / مالی معاوضات / سود

ایزی پیسہ وغیرہ کے اکاؤنٹ میں پیسہ رکھنے پر ملنے والے انعام کا حکم

ایزی پیسہ اور دیگر بینک اکاؤنٹ جس میں آفر دی جاتی ہے کہ پانچ ہزار روپے بیلنس مقررہ مدت تک رکھنے پر قرعہ اندازی میں نام شامل کیا جاتا ہے اور کچھ بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو نقد پیسے دیتے ہیں ،کیا یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایزی پیسہ اور دیگر بینک اکاؤنٹ میں رکھی جانے والی رقم کی شرعی حیثیت شرعاً قر ض کی ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط یا معروف نفع حاصل کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتاہے،، لہذا مذکور اکاؤنٹ میں مقررہ مدت تک پانچ ہزار روپے جمع کرانے پر قرعہ اندازی کے ذریعہ جو انعامات دیے جاتے ہیں وہ قرض پر نفع لینے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتاہے جو بلاشبہ ناجائز اور حرام ہیں، اس لئے اس طرح غیر شرعی اور ناجائز معاملات میں حصہ دار بننے سےاجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في اعلاء السنن : عن فضالة بن عبيد، أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا أهـ (ج 14 ص510 ط: ادارة القرآن)۔
وفي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام اھ (ج5 ص166، ط:سعید)۔
وفي رد المحتار: تحت (قولہ کل قرض جر نفعاً حرام) إذا كان مشروطاً ( إلى قوله ) وان لم يكن النفع مشروطاً في القرض فعلى قول الکرخی لا بأس به اھ (ج 5، ص166، ط: سعید)۔
وفي فقه البيوع : الثالث ما جرى به عمل بعض التجار أنهم يعطون جوائز لعملا ئھم الذين اشتروا منهم كمية مخصوصة، ولو في صفقات مختلفة ، وقد تعطی هذه الجوائز بقدر الكمية لكل أحد، وقد تعطى بالقرعة (إلى قوله) فھی هبة مبتداة موعودة من البائع لتشجيع الناس على أن يشتروا البضائع منه، وجواز اخذها مشروط بأن لا يكون البائع زاد في ثمن البضاعة من اجل هذه الجوائز والا صار نوعا من القمار، لأن ما زاد على ثمن المثل انما طولب به على سبيل الغرر (إلى قوله) وكذلك ان كان الثمن ثمن المثل ، فإنه يشترط أن يكون المشتري يقصد شراء البضاعة حقيقۃ ولا يشتريها لمجرد احتمال الحصول على الجائزة والا ففيه شبهة القمار اهـ ( ج ۲ ص ۷۷ ، مكتبه معارف القرآن)۔
وفي رد المحتار: ويردونها على اربابها ان عرفوهم والا تصدقوا بھا،لان الكسب الخبيث التصدق اذا تعذر الرد على صاحبہ اھ (ج6، ص،385،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70165کی تصدیق کریں
0     1532
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات