ایزی پیسہ اور دیگر بینک اکاؤنٹ جس میں آفر دی جاتی ہے کہ پانچ ہزار روپے بیلنس مقررہ مدت تک رکھنے پر قرعہ اندازی میں نام شامل کیا جاتا ہے اور کچھ بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو نقد پیسے دیتے ہیں ،کیا یہ جائز ہے؟
ایزی پیسہ اور دیگر بینک اکاؤنٹ میں رکھی جانے والی رقم کی شرعی حیثیت شرعاً قر ض کی ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط یا معروف نفع حاصل کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتاہے،، لہذا مذکور اکاؤنٹ میں مقررہ مدت تک پانچ ہزار روپے جمع کرانے پر قرعہ اندازی کے ذریعہ جو انعامات دیے جاتے ہیں وہ قرض پر نفع لینے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتاہے جو بلاشبہ ناجائز اور حرام ہیں، اس لئے اس طرح غیر شرعی اور ناجائز معاملات میں حصہ دار بننے سےاجتناب لازم ہے۔
کما في اعلاء السنن : عن فضالة بن عبيد، أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا أهـ (ج 14 ص510 ط: ادارة القرآن)۔
وفي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام اھ (ج5 ص166، ط:سعید)۔
وفي رد المحتار: تحت (قولہ کل قرض جر نفعاً حرام) إذا كان مشروطاً ( إلى قوله ) وان لم يكن النفع مشروطاً في القرض فعلى قول الکرخی لا بأس به اھ (ج 5، ص166، ط: سعید)۔
وفي فقه البيوع : الثالث ما جرى به عمل بعض التجار أنهم يعطون جوائز لعملا ئھم الذين اشتروا منهم كمية مخصوصة، ولو في صفقات مختلفة ، وقد تعطی هذه الجوائز بقدر الكمية لكل أحد، وقد تعطى بالقرعة (إلى قوله) فھی هبة مبتداة موعودة من البائع لتشجيع الناس على أن يشتروا البضائع منه، وجواز اخذها مشروط بأن لا يكون البائع زاد في ثمن البضاعة من اجل هذه الجوائز والا صار نوعا من القمار، لأن ما زاد على ثمن المثل انما طولب به على سبيل الغرر (إلى قوله) وكذلك ان كان الثمن ثمن المثل ، فإنه يشترط أن يكون المشتري يقصد شراء البضاعة حقيقۃ ولا يشتريها لمجرد احتمال الحصول على الجائزة والا ففيه شبهة القمار اهـ ( ج ۲ ص ۷۷ ، مكتبه معارف القرآن)۔
وفي رد المحتار: ويردونها على اربابها ان عرفوهم والا تصدقوا بھا،لان الكسب الخبيث التصدق اذا تعذر الرد على صاحبہ اھ (ج6، ص،385،ط:سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1