کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بہن اپنے والد کے ترکہ سے اپنا حصہ نہیں لینا چاہتی ، بلکہ وہ بھائیوں کومعاف کررہی ہے ،اب اس پراس کا شوہر اسے بلیک میل اور زبردستی کررہا ہے کیا مذکور شوہر کیلئے ایساکرنا جائز ہے یانہیں ؟
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق اگر بہن اپنی مرضی وخوشی سے بلاکسی جبر واکراہ اپنا حصہ بھائیوں کومعاف کرنا چاہتی ہوتوشرعاً ایساکرناجائز اور درست ہے ،اور مذکور بہن کے شوہر کیلئے اسے بلیک میل کرکے زبردستی بھائیو ں سے حصہ لینے پرمجبور کرنا شرعاً درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ،تاہم محض معاف کردینے سے مذکور بہن کاحصہ میراث شرعاً ختم نہ ہوگا،البتہ اگر میراث کی باقاعدہ تقسیم اور اپنے حصے پر قبضہ کرلینے کے بعد وہ اپنا حصہ اپنے بھائیوں کودیدے یااپنے حصے کے عوض کچھ رقم وغیرہ لیکر بقیہ حصے سے بھائیوں کے حق میں دستبردار ہوجائے تو ایسی صورت میں شرعاً اس کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔
کمافی دررالحکام : لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره اھ(1/ 559)۔