گناہ و ناجائز

جوئے والے میچ میں پیسے ملائے بغیر کھیلنے کا حکم

فتوی نمبر :
70203
| تاریخ :
2024-01-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جوئے والے میچ میں پیسے ملائے بغیر کھیلنے کا حکم

السلام علیکم ! میں ایک کرکٹر ہوں اور کافی عرصے سے کھیل رہا ہوں ، پہلے ہم کھیلتے تھے تو کوئی پیسے یا کوئی چیز نہیں لگاتے تھے ، اب لڑکے میری ٹیم کے پیسے لگاتے ہیں اور میں صرف اس ٹیم میں کھیلتا ہوں ، پیسے نہیں لگاتا، مجھے یہ بتائیں کیا میرا کھیلنا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ کیونکہ میں صرف ایک گیم سمجھ کر کھیلتا ہوں اور مجھے اب سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کھیلوں یا چھوڑ دوں ؟ میری راہ نمائی فرمائیں۔ جزاک اللّہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل اگر چہ براہ راست ہار جیت میں رقم نہیں لگاتا ہو، لیکن چونکہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے ٹیم کی ہار جیت کا فیصلہ ہوتا ہے ، جن کی بنیاد پر جوئےاور سٹے کی رقم تقسیم ہوتی ہے ، اس لئے جوئے کی رقم میں حصدار بنے بغیر بھی اس طرح ٹیموں کے ساتھ کھیلنا اعانت علی المعصیہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُـوْا عَلَى الْبِـرِّ وَالتَّقْوٰى ۖ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ، الایۃ(مائدہ۔آیۃ 2)
وفی صحیح مسلم:عن جابر رض:قال:لعن رسول اللہﷺ آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء الخ(ج 2 ص 1052)۔
وفی الدر المختار:(وحرم لو شرط) فیھا (من الجانبین)لانہ یصیر قماراً الخ(ج 6 ص 403)۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70203کی تصدیق کریں
0     925
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات