کیا فرماتے ہیں مفتیان حضرات اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے اور اولاد کی نعمت سے محروم تھا ، میاں بیوی نے بخوشی ایک نو مولود بچہ ( لڑکا ) راضی نامے کے ساتھ گود لیا ۔
1۔ جناب عالی ، اب میں صرف کاغذات میں ولدیت میں اپنا نام لکھوانا چاہتا ہوں تاکہ معاملات میں سہولت رہے ، آپ کی رہنمائی درکار ہے ۔
2 ۔ اس بچے کو میری بیوی کی بہن نے دودھ پلایا ہے ، کیا اس وجہ سے یہ بچہ میری بیوی کے لئے محرم ہوگیا ہے ؟
3 ۔ اس رضاعی رشتے کی وجہ سے یہ بچہ کن کن سے شادی نہیں کر سکے گا ؟ تاکہ مستقبل میں ان معاملات میں احتیاط رکھی جا سکے ۔
واضح ہو کہ کسی بچے کو گود لینا تو شرعاً جائز ہے ، لیکن اس بچے کو حقیقی والد کے بجائے اپنی طرف منسوب کرنا یا کاغذات وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوانا ازروئے قرآن و حدیث حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، لہذا سائل کے لئے مذکور لے پالک بچہ کی ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوانا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ سرپرست کے خانہ میں اپنا نام لکھوا سکتا ہے ، جبکہ مذکور بچے نے اگر مدتِ رضاعت ( ڈھائی سال ) کے اندر سائل کی سالی کا دودھ پیا ہو تو اس کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہو گئے جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں ، چنانچہ سائل کی بیوی اس کے لئے ( رضاعی خالہ ) بن گئی ، جس طرح حقیقی خالہ سے پردہ لازم نہیں اسی طرح رضاعی خالہ سے بھی پردہ لازم نہیں ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص في قوله تعالى : (ادعوھم لآبائھم هو اقسط عند الله فان لم تعلموا أباءھم فاخوانكم في الدين ومواليكم ) فيه اباحة اطلاق اسم الاخوة وحظر اطلاق الأبوة من غير جھة النسب ولذلك قال اصحابنا فيمن قال لعبده هو اخی لم یعتق اذا قال لم اراد به الاخوة من النسب لان ذلك يطلق فی الدین ولو قال هو ابني عتق لان اطلاقه ممنوع الامن جھة النسب وروى عن النبي صلى اللہ عليه وسلم انہ قال من ادعی الی غير ابيه وهو يعلم انه غير ابيه فالجنة علیہ حرام ( ج 3 ، ص 354 ، ط : سھیل اکیڈمی ) ۔
و في صحيح مسلم : عن عائشة قالت : قال لی رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم "یحرم من الرضاعۃ ما يحرم من الولادة " ( كتاب الرضاع ، ص 593 ، رقم الحدیث 1444 ، ط: مؤسسة الرسالة )
وفى الهندية : يحرم على الرضيع ابواه من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جميعا حتی ان المرضعۃ لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذه الارضاع أوبعده أو ارضعت رضیعاً أو ولد لھذا الرجل من غیر ھذہ المرأۃ قبل ھذا الارضاع أو بعدہ أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل اخوة الرضيع وأخواته و أولادهم أولاد أخوته وأخواته وأخو الرجل عمه واخته عمته وأخو المرضعة خاله و اختھا خالته وكذا في الجد والجدة الخ ) كتاب الرضاع، ج 1 ، ص 343 ، ط : ماجدیہ ) ۔