گناہ و ناجائز

بالوں کی چوٹی کے ساتھ نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
70456
| تاریخ :
2024-01-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بالوں کی چوٹی کے ساتھ نماز پڑھنا

کیا میں وگ لگا کر نماز پڑھ سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ انسانی بالوں کی وگ لگانا شرعاً جائز نہیں ہے جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کوئی شخص انسانی بالوں کی وگ لگا کر نماز پڑھے یا کوئی اور عبادت کرے، اگرچہ وہ عبادت تو اداہوجائیگی، لیکن حرام میں ملوث رہنے کی وجہ سے گناہ میں مبتلاء رہے گا، لہذا کسی دوسرے انسان کے بالوں کی وگ لگانے اور اسکے ساتھ نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تکملۃ فتح الملھم: الوصل بشعر الآدمی حرام، وکذالک الوصل بشعر نجس من غیر الآدمی واما الشعر الطاھر من غیر الآدمی فیجوز الوصل بہ اھ۔(ج4 صـ191 باب تحریم فعل الواصلۃ ط: مکتبۃ دارالعلوم کراتشی)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: ولم یصل الماء تحتہ) لان الاحتراز ینہ غیر ممکن حلیۃ (قولہ بہ یفتی) صرح بہ فی المنیۃ عن الذخیرۃ فی مسالۃ الحناء والطین والدرن معللا بالضرورۃ قال فی شرحھا ولان الماء ینفذہ لتخللہ وعدم لزوجتہ وصلابتہ والمعتبر فی جمیع ذلک نفوذ الماء و وصولہ الی البدن اھ لکن یرد علیہ ان الواجب الغسل وھو اسالۃ الماء مع التقاطر کمامر فی ارکان الوضوء والظاھر ان ھذہ الاشیاء تمنع الاسالۃ فالاظھر التعلیل بالضرورۃ، ولکن قدیقال ایضاً ان الضرورۃ فی درن الانف اشد منھا فی الحناء والطین لندورھما بالنسبۃ الیہ مع انہ تقدم انہ یجب غسل ماتحتہ فینبغی عدم الوجوب فیہ ایضاً تامل الخ (ج1 صـ154 کتاب الطھارۃ ط: سعید)۔
وفی حاشیۃ الطحطاوی: فلایصح مسح اعلی الذوائب المشدودۃ علی الراس الخ۔
وفیہ ایضاً: (المشدودۃ علی الراس) ای التی ادیرت ملفوفۃ علی الراس بحیث لوارخاھا لکانت مسترسلۃ اما لوکانت تحت راس فلاشک فی الجواز الخ (صـ60 کتاب الطھارۃ ط: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70456کی تصدیق کریں
0     798
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات