میں اپنے خاندان کے ساتھ غیر مسلم ملک میں رہ رہا ہوں، میں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دیگر علماء کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسلام میں کفار کے درمیان رہنا جائز نہیں ہے، وہ سورہ نساء آیت نمبر 97-100 اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ میں کفار کے درمیان رہنے والے کو انکار کرتا ہوں، پاکستان کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے مہربانی کرکے مجھے بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ کیا مجھے پاکستان واپس آنا چاہیئے؟ یا غیر مسلم ملک میں رہنے کی اجازت ہے ؟آج کل پاکستان میں رہنے کی لاگت کا انتظام کرنا مشکل ہے اور اس وقت ملازمت کا بازار اچھا نہیں ہے ، لہذا اس حالت میں زندہ رہنا مشکل ہے ، تو براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ اسلام میں اس کی اجازت ہے ؟جزاک اللہ خیراً
سائل اور اس کے خاندان کےلئے غیر مسلم ملک میں رہتے ہوئے اپنے دین پر عمل کرنا ممکن ہو اور وہاں کی کافر حکومت کی طرف سے دین اسلام پر عمل کرنے کی مکمل آزادی بھی ہو اور واقعۃ سائل کے لئے ملک پاکستان میں روزگار تلاش کرنا مشکل یا ناکافی ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے غیر مسلم ملک میں روزگار کی خاطر رہائش اختیار کرنے کی گنجائش ہے ، ورنہ غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالی :هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِىْ مَنَاكِبِـهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۖ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُالایۃ (الملک ۔ ایہ15)
وفی بحوث فی القضایا الفقھیہ: وکذلک ان اضطر الیہ مسلم بسبب انہ لم تتیسر لہ فی بلدہ وسائل المعائش الضروریۃ التی لا بد لہ منھا ولم یجدھا الا فی مثل ھذہ البلاد فانہ یجوز لہ ذلک (الی قولہ) وذلک لان کسب المعاش فریضۃ بعد الفریضۃ ولم یقیدہ الشرع بمکان دون مکان الخ(329/1)