السلام علیکم !کیا فرماتے ہیں علماءکرام فدوی کی منہ بولی بہن جس سے وہ صرف بوقتِ ضرورت واٹسپ میسج پر بات چیت کرتا ہے اور اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کے وہ منہ بولی بہن عالمہ کا کورس کر رہی ہے اور شرعی پردہ بھی باقاعدگی سے کرتی ہے ،تو کیا شریعت میں ایسی کوئی گنجائش ہے جس سے انکا بات کرنا جو کے صرف میسج ، ٹیکس میسج کی حد تک ہے نہ تو آمنے سامنے ہے اور نا ہی کال پر شرعی پردہ کی وجہ سے ، اور بات چیت بھی انتہائی مہذب طریقے سے کرتے ہیں ،جس میں فحاشی کا کوئی عنصر موجود نہیں ہوتا تو کیا شریعت دو منہ بولے بہن بھائی کو ایسی گفتگو کی اجازت دیتی ہے؟براہ کرم وضاحت سے بیان فرمائیں ، جزاک اللہ !
واضح ہو کہ منہ بولی بہن بھی نامحرم ہوتی ہے ، اور نامحرم کے ساتھ بلا ضرورت بات چیت کرنا ( خواہ میسج پر ہی کیوں نہ ہو ) ملنا جلنا ، گپ شپ لگانا ، ہنسی مذاق کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ گناہ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے ، البتہ بوقت ضرورت شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بقدر ضرورت بات کرنے کی گنجائش ہے ، لہذا سائل کے لئے بھی صرف ضرورت کے وقت کام کی حد تک بقدر ضرورت میسج کرنے کی گنجائش ہے ۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ علی الراجح ) ( الی قولہ ) ذکر الامام ابو العباس القرطبی من لا فطنۃ عندہ أنا اذا قلنا صوت المرأۃ عورۃ أنا نرید بذلک کلامھا ، لان ذلک لیس بصحیح ، فانا نجیز الکلام مع النساء للأجانب و محاورتھن عند الحاجۃ الی ذلک ، و لا نجیزھن رفع اصواتھن و لاتمطیطھا و لاتلبیسھا و تقطیعھا، لما فی ذلک استمالۃ الرجال الیھن و تحریک الشھوات منھم ، و من ھذا لم یجز أن تؤذن المرأۃ : قلت : و یشیر الی ھذا تعبیر النوازل بالنغمۃ اھ ( مطلب فی ستر العورۃ ، ج 1 ، ص 406 ، ط : سعید ) ۔ واللہ اعلم