السلام علیکم مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ فاریکس ٹریڈنگ اور بائنری ٹریڈنگ کیا یہ حلال ہیں ؟ برائے مہربانی اس کے بارے میں رہنمائی کریں۔
واضح ہو کہ فاریکس ٹریڈنک سود اور قمار کی ایک قسم ہے ، جس میں عام طورپر خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی ، بلکہ فرق برابر کرکے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اس کاروبار میں قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے ، جو شرعاً ناجائز ہے ، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ بائنری ٹریڈنگ میں بھی چونکہ کسی چیز کے متعلق پیش گوئی کرکے اس پر پیسے لگانے ہوتے ہے ، کہ فلاں چیز فلاں تاریخ کو مہنگی ہوگی یا سستی، پھر اگر وہ پیش گوئی درست ثابت ہو جائے تو پیش گوئی والے کو مزید رقم مل جاتی ہے اور پیش گوئی غلط ثابت ہونے کی صورت میں اصل رقم بھی ڈوب جاتی ہے ، لہذا یہ بھی قمار/جوا کی ایک صورت ہے جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، لہذا اس قسم کی تجارت میں حصہ لینا جائز نہیں ، جس سے مکمل طورپر احتراز لازم ہے ۔
قال الله تعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورة المائدة، الأية : 90)-
و في صحيح مسلم : عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه ». قال ابن عباس وأحسب كل شىء مثله. ( كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، ص 538، ط : مؤسسة الرسالة)-
و في الدر المختار : ( إن شرط المال ) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط ) فيها ( من الجانبين ) لأنه يصير قمارا ( إلا إذا أدخلا ثالثا ) محللا ( بينهما ) ( كتاب الحظر و الإباحة، فصل في البيع، ج 6، ص 403، ط : سعيد)-
و في فتاوى الهندية : السباق يجوز (إلى قولى) وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهماالخ (الباب السادس في المسابقة، ج 5، ص 324، ط : ماجدية)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله : و شرطه أهلية المتعاقدين ) و شرط المعقود عليه ستة : كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه ، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه ، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع و الثمر قبل ظهوره ( مطلب شرائط البيع أنواع أربعة، ج 4، ص 505، ط : سعيد)-