میں اپنے سسر کے ساتھ کاروبار کرتا تھا، اب ان سے علیحدہ ہو گیا ہوں، لیکن وہ میرے حصے کی رقم مجھے نہیں دے رہے، تو کیا میں ان پر پریشر ڈالنے یا دھمکانے کے لیے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ”اگر آپ نے میرے پیسے نہیں دئیے تو آپکی بیٹی کو طلاق دے دونگا ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور واقعۃً سائل اپنے سسر کے ساتھ مشتر کہ کاروبار میں شریک تھا اور اب علیحدہ ہونے کی صورت میں سسر سائل کا حصہ نہیں دے رہا ہو اور بلا وجہ ٹال مٹول سے کام لے رہا ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ اسکی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہا ہے ، لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط طرز عمل سے باز آئے اور سائل کو اس کا حق دیکر مواخذہ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے ، بصورت دیگر سائل اپنے سسر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے ، جبکہ اپنے حق کی وصولیابی کے لئے اس کی بیٹی (بیوی) کو طلاق دینے کی دھمکی دینا درست نہیں جس سے احتراز کیا جائے۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مطل الغني ظلم الخ (باب في مطل الغني ظلم، ج2، ص 799، رقم الحدیث؛ 2166،ط: دار الیمامۃ)۔