السلام علیکم ! جناب میرا سوال یہ ہے کہ Faucetsاور خاص طور پر Crypto Faucetsکے ذریعے کمائی جائز ہے یا نہیں ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں ۔شکریہ
بٹ کوائن سمیت مختلف ورچوئل کرنسیوں کی خریدو فروخت اورتبادلہ کے لئے استعمال ہونے والے پلیٹ فام (ویب سائٹ ایپلیکیشن )کو کرپٹو فوسٹ Crypto Faucets کہا جاتا ہے، جبکہ موجودہ ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت اب تک غیر واضح اور غیر اطمینان بخش ہے ، اور اسے محض ڈیوائس میں موجود ہونے کی حد تک ہی کرنسی خیال کیا جاتا ہے ، اور خارج میں اس کا کوئی حسی وجود نہیں نیز پاکستان سمیت دنیا بھر کےکئی ممالک میں قانونی طور پر اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کے لئے استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ، لہٰذا اب تک کی معلومات کے مطابق کسی بھی پلیٹ فارم کے ذریعے کسی بھی ورچوئل کرنسی کی خرید و فروخت اور کاروبار کرنے اور اس سے حاصل شدہ نفع کو اپنے استعمال میں لانے سے احتیاط لازم ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَْ ( سورۃ المائدۃ: 90) ۔
و فی معالم التنزیل: ( ولا تأکلو اموالکم بینکم بالباطل ) أی بالحرام یعنی بالربا والقمار والغضب الخ ( سورۃ النساء ج 2 ص 1119 ط: دار طیبۃ ) ۔
وفی رد المحتار تحت( قولہ: لأنہ یصیر قماراً ) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ و ینقص اخری، و سمی القمار قماراً لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذھب مالہ الی صاحبہ، و یجوز أن یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص الخ (ج6 ص403 فصل فی البیع ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: و منھا فی المبیع وھو أن یکون موجوداً فلا ینعقد بیع المعدوم الخ ( ج3 ص1 کتاب البیوع ط: ماجدیۃ ) ۔