میں اپنے شوہر سے 2 سال سے الگ ہوں امی کے گھر، میرے شوہر نے مجھے میسج پر ایک طلاق دی ہے، تو مجھے پوچھنا یہ ہے کہ میری عدت 3 ماہ ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ میری پیریڈ کی تاریخ متعین نہیں ہے، اور کیا اس بیچ میں اسکول جاب پر جاسکتی ہوں پردہ میں یا نہیں؟ کیونکہ اب پیپر ہونے والے ہیں، اسکول والے چھٹی نہیں دے رہیں ، براہ مہربانی بتائیں۔
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ شوہر نے اُسے کن الفاظ کے ساتھ میسج پر ایک طلاق دی ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائلہ کے شوہر نے اُسے " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" جیسے واضح اور صریح الفاظ کے ذریعہ ایک طلاق دی ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار ہے، جبکہ عدت کے دوران شوہر کا رجوع نہ کرنے کی صورت میں یہ طلاق ، طلاقِ بائن بن کر میاں و بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا، جس کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، نیز رجوع نہ کرنے کی صورت میں اگر چہ سائلہ اپنے شوہر سے عرصہ دو سال سے الگ رہ رہی ہو اور اس کی ماہواری آنے کی تاریخ متعین نہ ہو، تب بھی اس پر تین ماہواریاں مکمل ہونے تک احکامِ عدت کی پابندی لازم ہوگی، اور اس دوران ملازمت کے لئے اسکول جانا بھی جائز نہ ہوگا، بلکہ اُسے اسکول انتظامیہ کو مذکور شرعی عذر بتلا کر چھٹی لے لینی چاہیئے ۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة ( الی قولہ ) متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 355 ط: ماجدیۃ )۔
وفیہا ایضاً: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز.الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 374 ط: ماجدیہ)
و فی الدر المختار: ( و تعتدان) أی معتدۃ طلاق وموت ( فی بیت وجبت فیہ ) و لا یخرجان منہ ( إلا ان تخرج أو ینھدم المنزل ، أو یخاف ) إنھدامہ الخ ( فصل فی الحداد ج 3 ص 536 ط: سعید ) ۔
وفیہ ایضاً: (ولم تحض) الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الإياس جوهرة وغيرها الخ( ج 3 ص 508 ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار، أو على السكنى فيلزمها أن تكتري بيت الزوج معراج (لو حرة) أو أمة مبوأة ولو من فاسد (مكلفة من بيتها أصلا) لا ليلا ولا نهارا ولا إلى صحن دار فيها منازل لغيره ولو بإذنه لأنه حق الله تعالى الخ ( ج 3 ص 535 ط: سعید)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0