گناہ و ناجائز

کیا تعویذ پہننا درست ہے؟

فتوی نمبر :
70974
| تاریخ :
2024-02-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا تعویذ پہننا درست ہے؟

تعویذپہننا اسلام میں کیسا ہے، لوگ اس کو صحیح کہتے ہیں ؟اور کچھ درست نہیں ،تعویذ کے حوالے سے کوئی دلیل یا حدیث مل سکتی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایسا تعویذجس میں کفریہ و شرکیہ کلمات نہ ہو ں اور نہ ہی اس کے کلمات غیر معلوم المعنیٰ ہو ں ، بلکہ قرآنی آیات اور ماثور کلمات پر مشتمل ہو اور جائز مقصد کے لئے بنا یا گیا ہو تو ایسے تعویذ کا پہننا شرعاً جائز ہے ،جبکہ احادیث صحیحہ سے بھی اس طرح کا تعویذ ثابت ہے ، چنانچہ ابوداؤد شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کی سکھائی ہوئی ایک دعالکھ کر بچوں کے گلے میں ڈالا کر تے تھے ، لہذا علی الاطلاق تعویذ کو غلط سمجھنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد : حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم من الفزع كلمات: «أعوذ بكلمات الله التامة، من غضبه وشر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» وكان عبد الله بن عمر يعلمهن من عقل من بنيه، ومن لم يعقل كتبه فأعلقه عليه(باب کیف الرقی حدیث نمبر 3893ط:موسسۃالرسالہ)
وفی ردالمحتار:تحت(قوله التميمة المكروهة)(الی قولہ)ولابأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى(الی قولہ)وانماتکرہ العوذۃکانت بغیرلسان العرب ،ولایدری ماھوولعلہ یدخلہ سحراو کفر او غیر ذللک اماماکان من القرآن اوشی من الدعوات فلابأس بہ الخ(فصل فی البس ج6 ص363 ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70974کی تصدیق کریں
0     721
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات