گناہ و ناجائز

لے پالک کے نکاح میں حقیقی والد کا نام نہ لینے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
71311
| تاریخ :
2024-02-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لے پالک کے نکاح میں حقیقی والد کا نام نہ لینے سے نکاح کا حکم

کیا لے پالک اولاد کے نکاح کے و قت، نکاح فارم میں ، سگے باپ کے خانے میں ، لے پالک باپ کا نام لکھ دینے سے بچے کا نکاح ہو جائے گا ؟ مہر با نی کر کے ہاں یا ناں میں جواب دے دیں ، شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لے پالک کواگر نکاح کے گواہان ذاتی طور پر جانتے ہوں یا مجلسِ نکاح میں وہ خود موجود ہو تو ولدیت غلط ذکر کرنےکے باجود نکاح درست منعقد ہوجاتا ہے ،تاہم لے پالک بچوں کی ولدیت غلط ذکر کرنا یا پالنے والے کی طرف منسوب کرنا قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز و حرام ہے،جس سے احتراز اور ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کا نام لکھنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ الآیۃ۔(الاحزاب،5)
و فی ردالمحتار: (قوله: ولا المنكوحة مجهولة) (الی قولہ) قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها الخ (ج۳، ص۱۵،کتاب النکاح، ط۔سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71311کی تصدیق کریں
0     659
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات