السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے کی ایک بستی ہے جس میں صرف ایک دینی مدرسہ قائم ہے۔اسی بستی میں اس وقت ارتداد اور دینی بگاڑ تیزی سے پھیل رہا ہے، یہاں تک کہ کئی بچیاں مذہبِ اسلام کو ترک کر چکی ہیں۔اسی دینی و اصلاحی ضرورت کے پیشِ نظر اس مدرسے میں بچیوں کے لیے چار سالہ عالمیت کا کورس شروع کیا گیا ہے۔
اس نظامِ تعلیم میں اساتذہ مرد حضرات ہیں،(کیونکہ جو اساتذہ صبح میں ابتدائی و دینیات کے طلباء کو پڑھاتے ہیں وہی بچیوں کو پردہ کے ساتھ پڑھاتے ہیں، کیونکہ صبح تمام بچے اسکول چلے جاتے ہیں) اور طالبات مکمل پردے اور برقعہ کے اہتمام کے ساتھ تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ (کمرہ میں پردہ لگا ہوا ہے، استاد پردہ کے اِس طرف اور بچیاں پردہ کے اُس طرف)
اساتذہ بھی پردے کی مکمل رعایت کے ساتھ تدریس انجام دیتے ہیں۔
مدرسہ غیر اقامتی ہے، مدرسہ صرف بستی کے لوگوں کے تعاون سے چلایا جاتا ہے، چندہ زکوٰۃ، صدقات یا دیگر شرعی مصارف کی رقوم استعمال نہیں کی جاتیں۔استفسار یہ ہے کہ:
کیا پردے کے مکمل اہتمام کے ساتھ مرد اساتذہ کا بچیوں کو تعلیم دینا شرعاً درست ہے یا نہیں۔
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے، علم و عمل میں برکت دے، اور دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام
صورت مسئولہ میں اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور دوران تعلیم بھی ایسی بے تکلفی اختیار نہ کی جائے جو باہم رغبت کا سبب بن سکتی ہو تو ایسی صورت میں بأمر مجبوری مرد اساتذہ کا بچی کو تعلیم دینے کی شرعًا گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
كما في القران الكريم: ﴿وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَٰعٗا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٖۚ ذَٰلِكُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّۚ﴾ [الأحزاب: 53]
وفيه أيضا: ﴿يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا﴾ [الأحزاب: 32]
وفي صحيح البخاري: عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: «قالت النساء للنبي ﷺ: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك. فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن. [كتاب العلم، باب: هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، (رقم الحديث (101)]
وذكر العيني في عمدة القاري تحت هذا الحديث: بيان استنباط الأحكام: الأول: فيه سؤال النساء عن أمر دينهن وجواز كلامهن مع الرجال في ذلك، وفيما لهن الحاجة إليه. [(2/ 134)]
وفي صحيح مسلم: عن ابن عباس رضي الله عنه، يقول: سمعت النبي ﷺ يخطب يقول: "لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم. [كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، (رقم الحديث (1341)]
وفي سنن الترمذي: واستفتته جارية شابة من خثعم، فقالت: إن أبي شيخ كبير قد أدركته فريضة الله في الحج، أفيجزئ أن أحج عنه؟ قال: حجي عن أبيك، قال: ولوى عنق الفضل، فقال العباس: يا رسول الله، لم لويت عنق ابن عمك؟ قال: رأيت شابا وشابة، فلم آمن الشيطان عليهما. [أبواب الحج، باب ما جاء أن عرفة كلها موقف، (رقم الحديث (885)]
وفي رد المحتار: ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. … أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ.. [باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ط: ايچ ايم سعيد (1/ 406)]
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0