گناہ و ناجائز

بیمار والدہ کو چھوڑ کر باہر ملک میں ملازمت کرنا

فتوی نمبر :
71398
| تاریخ :
2024-03-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیمار والدہ کو چھوڑ کر باہر ملک میں ملازمت کرنا

جناب! میں مئی 2023 میں بحرین آیا کراچی سے، میں کراچی میں ایک پرائیویٹ بینک کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں مینیجر کی پوسٹ پر تھا، تنخواہ اچھی تھی، زندگی اچھی تھی فیملی کے ساتھ، جب سے میں بحرین آیا ہوں میری والدہ کی طبیعت خراب رہنے لگی ہے، اور ان کی یاد داشت تقریبا 60 فیصد ختم ہو گئی ہے، ایک دن گھر سے بھی نکل گئی تھی بغیر بتائے، میرے بچے اور بیوی ڈھونڈ کر لائے، مجھےان حالات میں رہنمائی کی ضروت ہے کہ کیا میں واپس پاکستان چلا جاؤں؟ یہاں بلا نہیں سکتا کیونکہ میری کوئی باقاعدہ نوکری نہیں ہے، کمیشن پر کام کرتا ہوں اور پاکستان کے حالات بھی صحیح نہیں ہے، براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟ کہیں میں گنہگار تو نہیں ہورہا بوڑھی ماں کو چھوڑ کر؟میری والدہ کی عمر تقریباً 75-80 سال کے درمیان ہے،آپ سے جلد جواب کا انتظار ہے، انور حسین، جواب فقہ حنفی کے حساب سے دیجئے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کے بیوی بچے سائل کی بوڑھی والدہ کی خدمت کرتے ہوں، اور سائل کے نہ ہونے سے والدہ کی خدمت میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی ہو تو ایسی صورت میں سائل کا ذریعہ معاش کی خاطر ملک سے باہر رہنے اور والدہ کی خدمت نہ کرنے سے اگرچہ وہ گنہگار نہ ہوگا ، البتہ سائل کو چاہیے کہ وقفہ وقفہ سے اپنی والدہ سے فون پر بات چیت کر لیا کرے، تاکہ اس کی دلجوئی ہوتی رہے، تاہم اگر سائل کی والدہ سائل کے باہر نوکری کرنے یا کام کرنے پر راضی نہ ہو اور سائل کو مسلسل یاد کرتی ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ اپنے ملک لوٹ آئے اور اپنی بوڑھی والدہ کی خوب خدمت کرے اور اس موقع کو غنیمت جانے، ان شا ء اللہ اس خدمت کی برکت سے اللہ تعالی روزی میں خوب برکت عطا فرمائیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ:﴿ وَ قَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ (الاسراء:24 الآیة )۔
وفی الدر المختار: (لا) يفرض (على صبي) وبالغ له أبوان أو أحدهما؛ لأن طاعتهما فرض عين إلخ
وفی رد المحتار: تحت قوله (قوله و بالغ له أبوان) لو كان معسرا محتاجا إلى خدمته فرضت عليه و لو كافرا و ليس من الصواب ترك فرض عين اھ(124/4)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71398کی تصدیق کریں
0     605
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات