میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے نیند کے سنگین مسائل ہیں،اور میں الپرازولم لینے سے بھی سو نہیں سکتا،میں چرس کے بارے میں بات کررہا ہوں جس کی 3،2خوراک لینے کے بعد میں سو سکتا ہوں،کیا کروں ،میں نے بازار کی ہر دوائی ڈاکٹر کی تجویز کردہ آزمائی ہے،اور میں اسے اپنے دل سے نکالنا چاہتا ہوں،لیکن رات کی شفٹ اور کام اور نیند کی کمی مجھے دن بدن خراب اور کمزور بنارہی ہے،میں رات کی شفٹوں میں کام کرتا ہوں،اور اگر مجھے نیند نہیں آتی،تو میرا کام متاثر ہوتا ہے،میں اس کے حرام ہونے کو جانتا ہوں،تو میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ میں حوالہ شدہ جواب کےلیے بہت شکر گزار ہوں گا جناب۔
چرس چونکہ نشہ آور چیز ہے،اس لیے اس کا استعمال جائز نہیں،لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ نیند کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کسی ماہر اور مستند طبیب سے رجوع کرکے اپنا علاج معالجہ کرائے،اور اپنی راحت و سکون کے لیے دیگر اسباب اختیار کرے،امید ہے کہ اللہ تعالی بہتری کا معاملہ فرمائیں گے،ڈاکٹری نسخے کے بجائے اپنی مرضی سے چرس جیسی نشہ آور اور مضرِ صحت چیز کی عادت بنانا درست نہیں،جس سے احتراز چاہیئے۔
کما فی رد المحتار تحت (قوله ويحرم أكل البنج) هو بالفتح: نبات يسمى في العربية شيكران، يصدع ويسبت ويخلط العقل كما في التذكرة للشيخ داود. وزاد في القاموس: وأخبثه الأحمر ثم الأسود وأسلمه الأبيض، وفيه: السبت يوم الأسبوع، والرجل الكثير النوم، والمسبت: الذي لا يتحرك. وفي القهستاني: هو أحد نوعي شجر القنب، حرام لأنه يزيل العقل، وعليه الفتوى الخ (ج6 ص457 کتاب الاشربۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: قال له الطبيب الحاذق علتك لا تندفع إلا بأكل القنفذ أو الحية أو دواء يجعل فيه الحية لا يحل أكله كذا في القنية الخ (ج5 ص355 کتاب الاشربۃ ط: ماجدیۃ)۔