اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرلے کہ اگر فلاں گناہ مجھ سے سرزد ہوگیا تو میں فدیہ دوں گا اور جب اس سے گناہ ہوجائے اور یہ فدیہ بھی نہ دے اور اس کو اب یاد نہ ہو کہ گناہ کتنی بار ہوا ہے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا ؟
اگر کوئی شخص گناہ سرزد ہونے پر فدیہ دینے کا فقط ارادہ کرے باقاعدہ کوئی حلف یا منت نہ مانے تو ایسی صورت میں گناہ سرزد ہونے پر اس کے ذمہ کوئی فدیہ دینا لازم نہ ہوگا ، تاہم اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے اجتناب لازم ہوگا ۔
کما فی البحرالرائق : و ركنها اللفظ المستعمل فيها وشرطها العقل والبلوغ الخ ۔ (ج۴ ، ص۳۰۰ ، کتاب الأیمان ، ط۔دار الکتاب )۔
و فی بدائع الصنائع : (فصل) : وأما ركن اليمين بالله تعالى فهو اللفظ الذي يستعمل في اليمين بالله تعالى الخ۔ ( ج۳ ، ص۵ ، کتاب الأیمان ،ط۔دارالکتب العلمیہ)۔