گناہ و ناجائز

مسجد کی دکان حجام کو کرایہ پر دینے کا حکم

فتوی نمبر :
71751
| تاریخ :
2024-03-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مسجد کی دکان حجام کو کرایہ پر دینے کا حکم

بخدمت جناب مفتی صاحب، السلام علیکم! جناب عالی! مسجد کی دوکان حجام کو کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ جبکہ وہ حجامت کے علاوہ داڑھی مونڈنے اور لڑکوں کو غیر اسلامی طریقہ پر حجامت اور میک اپ سے متعلق اعمال بھی کریگا؟
مسجد انتظامیہ کو اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی چاہیئے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا سوال اگر مسجد کے اخراجات وغیرہ کے لئے وقف دکان سے متعلق ہو، تو مذکورہ دکان میں حجام/نائی کو دکان کرایہ پر دینے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر حجام/نائی ناجائز امور (داڑھی کاٹنا، خلاف شرع بال کاٹنا،حسن کی غرض سے بھنویں بنانا وغیرہ) کا ارتکاب نہ کرےتو ایسے حجام کو مسجد کی دکان کرایہ پر دینا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والا کرایہ مسجد کے اخراجات میں استعمال کرنا بھی درست ہے،لیکن اگر وہ مذکورہ غیر شرعی امور کا ارتکاب کریگا، جیساکہ سوال میں مذکور ہے، تو ایسے حجام کو اگرچہ کراہت کیساتھ دکان کرایہ پر دینے کی گنجائش ہے،لیکن مسجد کمیٹی کو چاہیئے کہ مسجد کی دکان ایسے حجام کو کرایہ پر نہ دے،تاکہ مسجد کی آمدنی میں کسی بھی قسم کا شبہ پیدا نہ ہو اور لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع بھی نہ ملے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71751کی تصدیق کریں
0     882
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات