گناہ و ناجائز

شوہر کے جیل میں ہونے کی صورت میں بیوی کے لئے اسقاط حمل کا حکم

فتوی نمبر :
72131
| تاریخ :
2024-03-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شوہر کے جیل میں ہونے کی صورت میں بیوی کے لئے اسقاط حمل کا حکم

السلام علیکم ! مفتی صاحب ! میری بیٹی کی شادی کو دو ماہ ہوئے ہیں اور میرا داماد غیر قانونی ایکٹیویٹیز میں ملوث ہے ، جو کہ ہمیں معلوم نہیں تھا اور اس کا (بیٹی) ساڑھےچار ہفتے کا حمل ہے ،(داماد جیل میں ہے)حمل ہمیں ساقط کروانا ہے تاکہ ہم بچی کی صحت اور اس کو بلیک میلینگ سے بچا سکیں ، کیا ہم یہ کر سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جب تک حمل کے اعضاء مثلا ناخن، انگلی وغیرہ کی بناوٹ ظاھر نہ ہوئی ہو (جوکہ عموما چار ماہ کے بعد ہوتی ہے)تو کسی عذر کی بنا پر اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہے،لہذا سائلہ کا داماد اگر غیر قانونی امور میں ملوث ہو اور اس کے ساتھ سائلہ کی بیٹی کو اس رشتہ اور اس حمل کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو تو اس عذر اور مجبوری کی وجہ سے اس حمل کو ضائع کرنے کی گنجائش ہوگی ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار:حکم اسقاط الحمل (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطھا قبل المدۃ المذکورۃ علی اذن الزوج الخ(ج 3 ص 176 ط:سعید)۔
وفیہ ایضا:تحت (قولہ لکن فی الخانیۃ)عبارتھا علی ما فی البحر: على ما في البحر: ذكر في الكتاب أنه لا يباح بغير إذنها وقالوا في زماننا يباح لسوء الزمان(الی قولہ) ويحتمل أنه أراد إلحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل، وكذا ما يأتي في إسقاط الحمل الخ(ج 3 ص 175 ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72131کی تصدیق کریں
0     673
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات