میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، بیٹا 2 سال کا ہے اور بیٹی 1 سال کی ہے، میری بیوی حاملہ ہے اور انشاء اللہ 2 ماہ میں ہمارا تیسرا بچہ ہوگا، یا تو بیٹا یا بیٹی، میری بیوی کی بہن کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور میں اس کا سرپرست ہوں، اب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس حالت میں میں اپنی بیوی کے حمل کو ہمیشہ کے لئے ختم کر سکتا ہوں تاکہ مزید حمل نہ ہو؟
واضح ہو کہ ضبطِ ولادت کا ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے اولاد پیدا ہونے کی صلاحیت ہی ختم ہو جائے خواہ وہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے ,کسی دوا یا انجیکشن کے ذریعہ ہو یا آپریشن اور خارجی تدابیر سے , شرعاً نا جائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی تندرست اور بچہ جننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو مذکور عذر کی بنا پر ولادت کی صلاحیت کو بالکلیہ ختم کروانا ناجائز وحرام ہے ، البتہ کسی ماہر دیندار معالج کے مشورے سے مانعِ حمل عارضی تدابیر (یعنی کنڈم ،مانع حمل دوائیں ،انجیکشن وغیرہ)کے استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
کما فی صحیح البخاری:عن عبد اللہ :کنا نغزوا مع رسول اللہ ﷺولیس معنا شیئ فقلنا الا نستخصی فنھانا عن ذلک الحدیث(ج2 ص759)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: جعل المراۃ عقیما بمعالجۃ تمنع الانجاب نھائیا وقد صرح الفقھاء بانہ یحرم استعمال ما یقطع الحبل من اصلہ لانہ کالوأد الخ(ج 3 ص 551)۔