ہماری یونیورسٹی میں مختلف ٹورنامنٹس ہوتے ہیں، جو کہ طلباء ہی کی بنائی ہوئی سوسائٹیز کرواتی ہیں،ان مقابلوں کی انٹری فیس ہوتی ہے اور وہ مخصوص سوسائٹی والے مقابلے میں حصہ لینے والوں سے جمع کرتے ہیں،پھر مقابلے میں جیتنے والے کو انعامی رقم سوسائٹی والوں کی جمع شدہ رقم میں سے دی جاتی ہے، کیا یہ مقابلے جوے کے حکم میں داخل ہیں؟ نیز ان میں حصہ لینے والے کا کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق مذکور طریقے سے ٹیموں سے پیسے جمع کر کے صرف جیتنے والی ٹیم کو وہ سارے پیسے دینا جوے اور قمار کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ کھیلنے والی دونوں ٹیموں کے علاوہ کوئی تیسرا فریق اگر اپنی طرف سے جیتنے والی ٹیم کو بطورِ انعام کچھ پیسے دیدے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے اور ایسا ہی کر نا چاہیئے ۔
کما فی الھندیہ: وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام(الباب السادس في المسابقة ج5 ص324 ط ماجدیہ)۔