گناہ و ناجائز

پرائز بانڈز اور کرنسی ایکسچینج کا حلال ہےیا حرام ؟

فتوی نمبر :
7272
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پرائز بانڈز اور کرنسی ایکسچینج کا حلال ہےیا حرام ؟

السلام علیکم! میں آپ سے پرائز بانڈز اور کرنسی ایکس چینج کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ حلال ہے اسلام میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) اس کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دی جاتی ہے در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔
اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہےکہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کرے گی ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ۔ چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈ کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں، جب چاہے لے سکتے ہیں۔
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ پرائز بانڈز (انعامی بانڈز) رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث و فقہ کی روشنی میں بلاشبہ نا جائز اور سود ہے اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔
جتنے روپے کا انعامی بانڈ (پرائز بانڈ )ہے ،اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں، اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈ ز پر ملنے والے انعام کی رقم حاصل کرلی ہو، تو جتنی رقم انعام کی تھی اتنی رقم کے بانڈز لیکر انھیں جلادے یا پھاڑ کر ضائع کر دے ،تاکہ حکومت کو سود کی رقم واپس پہنچ جائے، کیونکہ اس رقم کا اصل حکم یہی ہے کہ جس سے لی ہے، اس کو واپس کر دے اور جب اصل کو لوٹانا مشکل ہو تو بلا نیت ثواب کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک وقابض بنا کر دیدے۔ جبکہ کرنسی ایکسچینج میں مختلف ممالک کی کرنسیوں کا کمی و بیشی کے ساتھ خرید و فروخت کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ یہ معاملہ نہ تو ادھار ہوتا ہو اور نہ ہی کسی ایک ملک کی مختلف المالیت نوٹوں کی تبدیلی کمی بیشی کے ساتھ کی جاتی ہو۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدحنیف حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 7272کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات