چار سال پہلے میں نے اپنے شوہر سے کورٹ کے ذریعے خلع لی تھی جس میں میرے شوہر کی رضامندی شامل نہیں تھی ،پھر اس دوران میری بچی بھی پیدا ہوئی ،پھر ڈیڑھ سال قبل میں نے دوبارہ اپنے شوہر سے رجوع کیا، ہم تجدیدنکاح کرنے کے بعد ساتھ رہنے لگے، ابھی 18 دن قبل میرے شوہر نے غصے میں مجھے طلاق کے الفاظ ایک دفعہ بول دیے اب اس میں رجوع کا کیا حکم ہے ؟اور کتنے عرصے تک اگر میرے شوہر رجوع نہیں کرتے ہیں اور خرچہ نہیں دیتے ہیں تو طلاق واقع ہو جائے گی ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طر ح ایک عقد ہے جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے ایجاب وقبول کرنا لازم ہے ،چنانچہ سائلہ نے اگر شوہرکی اجازت ورضامندی کے بغیر کورٹ سے یکطرفہ خلع لی تھی تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں اور دونوں کا نکاح بدستور برقرار تھا ، لہذا تجدید نکاح کی ضرورت نہیں تھی ، تا ہم اس تجدید نکاح کے بعد اگر واقعتہً سائلہ کے شوہر نے صریح الفاظ میں ایک طلاق دیدی ہو تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے ، البتہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے ، چنانچہ اگر شوہر زبانی طور پر رجوع کر لے یا عملاً میا ں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہو جائے گا اور دونو ں کانکاح بدستور برقرار رہے گا ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کر نے کی صورت میں عدت مکمل ہو نے پر دونوں کانکاح ختم ہو جائیگا اور اس کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کر نے میں آزاد ہو گی ،تاہم اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تونئے سرے سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کرنا لازم ہو گا ، البتہ آئندہ کے لئے شوہر کے پاس صرف دوطلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کمافی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية(الباب السادس فی الرجعۃوفیماتحل بہ المطلقۃ ومایتصل بہ ج1 ص470 ط:ماجدیہ)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0