گناہ و ناجائز

مشرک کو قتل کرنا کیساہے

فتوی نمبر :
72916
| تاریخ :
2024-05-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مشرک کو قتل کرنا کیساہے

سورہ توبہ میں جو حکم مشرکین کو قتل کرنے کا آیا ہے، کیا اس میں ان کی بیویاں اور بچے بھی شامل ہیں؟ اور کیا یہ حکم صرف مشرکوں کے لیے ہے یا تمام کافروں کے لیے بھی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرآن و حدیث کی دیگر نصوص میں صراحتاً اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ مذکورہ حکم تمام مشرکین کے لیے عام نہیں، بلکہ خاص ان مشرکین اور کفار کے لیے ہے ،جو مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کرتے اور معاہدے توڑتے ہیں، لہٰذا اس حکم میں مشرکین کی عورتیں، بچے اور غیر محارب افراد شامل نہیں ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی تفسير القرطبي: فكان عليه السلام يقاتل من قاتله ويكف عمن كف عنه، حتى نزل" فاقتلوا المشركين" [التوبة: 5] فنسخت هذه الآية، قاله جماعة من العلماء. وقال ابن زيد والربيع: نسخها" وقاتلوا المشركين كافة" [التوبة: 36] فأمر بالقتال لجميع الكفار. وقال ابن عباس وعمر بن عبد العزيز ومجاهد: هي محكمة، أي قاتلوا الذين هم بحالة من يقاتلونكم، ولا تعتدوا في قتل النساء والصبيان والرهبان وشبههم، على ما يأتي بيانه. قال أبو جعفر النحاس: وهذا أصح القولين في السنة والنظر، (ج:2، ص:348، ط: دار الكتب المصرية )
و فی صحیح مسلم: عن عبد الله أن امرأة وجدت فی بعض مغازي رسول الله صلى الله عليه و سلم مقتولة، فأنكر رسول الله صلى الله عليه وسلم قتل النساء والصبيان، (باب تحريم قتل النساء والصبيان فی الحرب، رقم الحدیث: 1744، ط: دار إحياء التراث العربي – بيروت)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سليمان بن بريدة، عن أبيه، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا بعث جيشا قال: «اغزوا باسم الله، وفي سبيل الله، قاتلوا من كفر بالله، لا تغلوا، ولا تغدروا، ولا تقتلوا امرأة، ولا وليدا، ولا شيخا كبيرا الخ، (باب التأمير فی الحرب، و السفر، و وصية الإمام الجيش، رقم الحدیث: 2669، ط: المكتب الإسلامي-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72916کی تصدیق کریں
0     436
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات