گناہ و ناجائز

دعوت میں کھڑے ہوکر کھانا کھانے کا حکم

فتوی نمبر :
72919
| تاریخ :
2024-05-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دعوت میں کھڑے ہوکر کھانا کھانے کا حکم

اکثر پروگرام میں جو کھانا کھلایا جاتا ہے، وہ کھڑے ہو کر کھلایا جاتا ہے، ایسی صورت میں اگر کرسی ملنا مشکل ہو، تو اس وقت کھڑے ہو کر کھانے سے کوئی گناہ ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حضور ﷺ ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین، صلحاءِ امت اور مسلمانوں کا عام معمول اور رواج و طریقہ دسترخوان بچھا کر کھانے کا رہا ہے، جبکہ روایات میں بلا عذر کھڑے ہو کر کھانا کھانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے اور یہ خلافِ مروت و ادب بھی ہے، لہٰذا ایسی تقریب جس میں کھڑے ہو کر کھانا کھلانے کی ترتیب ہو اور مدعو شخص کو اس کا علم بھی ہو تو ایسی تقریب میں شرکت ہی سے اجتناب چاہیئے، البتہ اگر کسی کو اس انتظام کا علم نہ ہو اور تقریب میں شرکت کے بعد اس کا علم ہو ،تو کرسی میسر نہ ہونے کی صورت میں مجبوراً کھڑے ہو کر کھانا کھانے کی بھی گنجائش ہوگی، مگر ایسی صورت میں بھی اگر تقریب میں چند کرسیاں میسر ہوں یا کوئی اور بیٹھنے کی جگہ ہو ،تو وہاں بیٹھ کر کھانا بہتر ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح مسلم: عن النبي صلى الله عليه وسلم، «أنه نهى أن يشرب الرجل قائما»، قال قتادة: فقلنا فالأكل، فقال: «ذاك أشر أو أخبث»، اھ( کتاب الاشربہ ج 3 ص 1600)۔
وفی رد المحتار: (قوله: وعن ابن عمر إلخ) أخرجه الطحاوي وأحمد وابن ماجه والترمذي وصححه حلية، وقصد بذكره بيان حكم الأكل، لكن أخرج أحمد ومسلم والترمذي عن أنس عن النبي - صلى الله عليه وسلم - «أنه نهى أن يشرب الرجل قائما» قال قتادة: قلت لأنس: فالأكل، فقال: ذلك أشر وأخبث. وفي الجامع الصغير للسيوطي «نهى عن الشرب قائما والأكل قائما» ولعل النهي لأمر طبي أيضا كما مر في الشرب. وفي الفصل الحادي والثلاثين من فصول العلامي: وكره الأكل والشرب في الطريق والأكل نائما وماشيا، ولا بأس بالشرب قائما، ولا يشرب ماشيا، ورخص ذلك للمسافر. اھ ( سنن الوضوء ج 1 ص 130 ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72919کی تصدیق کریں
0     911
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات