DESCRIPTION https:/www.myzambeel.com یہ ایک ویب سائٹ کا لنک ہے جو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ڈراپ شیپنگ کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے، ان کے پاس بہت سارے پروڈکٹس موجود ہوتے ہیں، کسٹمر سے آرڈر لیکر ان کے پاس سبمٹ کرتے ہیں، اور یہ کمپنی خود ہی کسٹمر تک پروڈکٹس پہنچادیتی ہے ، اور پیمنٹ بھی کسٹمر سے خود ہی لیتی ہے، اور بعد میں ہمیں ہمارے پرافٹ دیتی ہے، یہ ہم سے پروڈکٹ کے علاوہ اس کو مکمل حفاظت کے ساتھ کسٹمر تک پہنچانے کےلیے کچھ اضافی فیس بھی لیتی ہے، اور ساری پیمنٹ ہمیں بالکل آخر میں ہوتی ہے، ہمارا کام آرڈر لیکر بس ان کو دینا ہوتا ہے ۔ ( 1 ) اسی کنڈیشن کے ساتھ جب پیمنٹ بھی یہ لے رہی ہے اور کسٹمر تک پروڈکٹس حفاظت کے ساتھ پہنچانے کے لئے اضافی فیس بھی لے رہی ہے، کیا اس پہ ڈراپ شیپنگ کا کاروبار جائز ہے یا نہیں ؟ ( 1) اگر ہم ایسا کرکے اپنی ویبسائٹ میں اوپر ہی ایک اعلان لکھ دیں جیسے کہ : AAL PRODUCTS POWERED BY ZAMBEEL اس صورت میں کسٹمر کے ساتھ بھی ہماری پوزیشن واضح ہوجائے، تو کیا اس طرح کرنا جائز ہوگا کہ نہیں ؟
واضح ہو کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے ، وہ اسکی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو بیع درست نہیں ہوتی، صورتِ مسئولہ میں سائل کا مذکور کمپنی کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ کار بھی بیع کی شرائط کے مفقود ہونے کی بناء پر درست نہیں، البتہ اگر سائل اپنی ویب سائٹ پر مذکور عبارت واضح طور پر لکھ دے کہ کسٹمر کو پتہ چل جائے تو اس صورت میں اصل بائع وہ کمپنی والے ہونگے، اور سائل کی حیثیت ایک وکیل یا (middle man)کی ہوگی، جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے، جس پر مقررہ متعین اجرت لینا سائل کےلئےشرعاً جائز ہے، البتہ اس صورت میں کمپنی ڈلیوری چارجز اور کمیشن وغیرہ ایڈ کرکے سائل کو پروڈکٹ کی فائنل قیمت بتائے کہ اس قیمت پر یا اس سے زیادہ پر آپ فروخت کرسکتے ہیں اور زائد فروخت کرنے کی صورت میں اوپر کی رقم آپ کی ہوگی تو اس طرح معاملہ شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا، البتہ چونکہ اس صورت میں سائل کی حیثیت وکیل کی ہوگی، لہذا کسٹمر تک مطلوبہ پروڈکٹ پہنچنے تک اس کا رسک مذکور کمپنی پر ہوگا، نقصان کی صورت میں سائل سے وہ وصول کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا»(باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 69، ناشر: دارالطباعۃ العامرۃ)-
وفی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية اھ
و فی رد المحتار تحت(قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين اھ(کتاب البیوع، ج: 4، ص:560، ناشر:سعید)-
وفی رد المحتار أیضاً:قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل اھ(باب الأجارۃ الفاسدۃ، ج: 6، ص: 479، ناشر: سعید)-
وفی الھدایۃ: قال: "ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد" لأنه باع مالا يملكه "ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد"؛ لأنه غير مقدور التسليم، ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها لو كان يؤخذ من غير حيلة جاز، إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك. قال: "ولا بيع الطير في الهواء" لأنه غير مملوك قبل الأخذ، وكذا لو أرسله من يده لأنه غير مقدور التسليم اھ(باب البیع الفاسد،ج:3، ص: 44، ناشر: دار احیاء التراث العربی)-
وفی الھندیۃ: وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا اھ(الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج:4، ص:411، ناشر: ماجدیۃ)-
وفی مرشد الحیران إلی الإنسان: (مادة 262) يشترط لصحة البيع رضا المتعاقدين بالبيع والشراء من غير إكراه ولا إجبار اھ(الباب الثانی فی العاقدین، ص: 43، ناشر: المطبعۃ الکبریٰ الأمیریۃ)-