گناہ و ناجائز

امتحان میں نقل کرنا اور کروانا

فتوی نمبر :
73104
| تاریخ :
2024-05-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

امتحان میں نقل کرنا اور کروانا

میں بارہویں جماعت کی طالبہ ہوں، میرے پریکٹیکل کے امتحانات کے دوران کالج والے ہمیں خود چیٹنگ کراتے ہیں اور تقریباً ہر کالج میں یونہی ہوتا ہے ، میں یوں تو پریکٹیکل میں نقل نہیں کرتی لیکن اگر مجھے کوئی سوال بالکل نہ آ رہا ہو اور باقی پوری جماعت نقل کر کے وہ سوال کر رہی ہو اور مجھے برے نتیجہ کا اندیشہ ہو، تو کیا پھر میرے لئے بھی تھوڑی سی نقل کرنی جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ امتحان "کا مقصد طلباء کرام کی اہلیت تعلیمی قابلیت وغیرہ کی جانچ پڑتال ہو تی ہے ،اور نقل کی صورت میں یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ، نیز امتحانی حال میں کسی طالب علم کو نقل کروانا خیانت و بد یانتی کے ساتھ دیگر طلباء کی حق تلفی پر مبنی عمل ہے ، لہذا کالج انتظامیہ کو چاہیئے طلباء کرام کو امتحان میں نقل کرواکر غیر شرعی اور غیر اخلاقی امر کا ارتکاب کرکے طلباء کرام کی تعلیمی استعداد کی کمزوری کا باعث نہ بنیں ، جبکہ اس صورت میں نقل نہ کرنے والے طلباءکرام کی حق تلفی بھی ہے جو کہ قطعاً درست نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے ، لہذا سائلہ کا دیگر طلباء کرام کی طرح نقل کےذریعے امتحانی پرچہ حل کر نے کے بجائے اپنی محنت اور کوشش سے امتحانی پر چہ حل کر نے کی کوشش کرنے کااہتمام کر نا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا(سورۃالنساءآیت 58)۔
قال اللہ تعالیٰ:إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ(سورۃالانفال آیت 58)
وفی مرقاۃ المفاتح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «آية المنافق ثلاث» ". زاد مسلم: " «وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم» ثم اتفقا: ( «إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان»فالكذب الإخبار على خلاف الواقع، وحق الأمانة أن تؤدى إلى أهلها، فالخيانة مخالفة (باب الکبائروعلامات المنافق ج1 ص26 ط:دارالکفر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73104کی تصدیق کریں
0     1176
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات