اسلام علیکم
سوال : ایک شخص مسافر ہے وہ اپنی بیوی کی تصویر پر یا اس کے ساتھ ویڈیو کال پر اس کو دیکھ کر اپنے ہاتھ سے اپنی شہوت پورا کرتا ہے، کیا یہ جائز ہے ؟اور اگر جائز نہیں تو پھر جائز صورت کیا ہو گی .
والسلام
کسی شخص کاخود لذتی (Masturbation) کے ذریعےاپنی شہوت پوری کرناقبیح عمل ہے، (خواہ یہ عمل اپنی بیوی کی تصویریااس سے ویڈیوکال پردیکھ کرہی کیوں نہ ہو)جس سے حتی الامکان اجتناب ضروری ہے ، لہذاگرکسی مسافرشخص کو اپنے اوپر قابو رکھنا مشکل ہو تواس کےلیے بہتریہی ہے بیوی کو بھی اپنےساتھ رکھنےکی ترتیب بنائے یا پھرگھرسےاتناعرصہ دوررہنےسے گریزکرے جس میں اس قسم کے گناہوں مبتلاءہونےکاشدیداندیشہ پیداہوجائے۔
وفی شعب الإیمان للبیھقی :عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : سبعة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة و لا يزكيهم و لا يجمعهم مع العالمين يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا إلا أن يتوبوا إلا أن يتوبوا فمن تاب تاب الله عليه الناكح يده و الفاعل و المفعول به .(7/329)
کمافی الشامية :وكذا الاستمناء بالكف و ان كره تحريما لحديث ” ناكح اليد ملعون ” ولوخاف الزنا يرجى ان لا وبال عليه .قال الشارح: قوله ( ولو خاف الزنى الخ) الظاهر أنه غير قيد بل لو تعين الخلاص من الزنى به وجب لأنه أخف . وعبارة الفتح فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب(3/426)