السلام علیکم ! ایک مسئلہ کے بارے میں رہنمائی چاہیئے تھی ،اگر ایک بندہ چوری کا مال کھا لیتا ہے، اور جس کی چوری کی اس کا بھی پتا نہیں کہ کس کا تھا ،تو اب اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ چوری کرنا ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، لہٰذا اگر کسی شخص نے چوری کرلی، تو اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے ، اور جو حرام مال اس طرح اپنے استعمال میں لاچکا ہے ، تو اتنی رقم اصل مالک یا اس کے ورثاء کے حوالے کردے، لیکن اگر اصل مالک یا اس کے ورثاء کا علم نہ ہو، تو اتنی رقم مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بلا نیت ثواب صدقہ کردے ، تو امید ہے کہ اس گناہ سے خلاصی ہوجائے گی۔
کما فی رد المحتار: (قوله إلا في حق الوارث إلخ) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه الخ ( ج 5 ص 99 ط: سعید)۔