جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
شریعت کے لحاظ سے مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے،میری زوجہ کے والد بینک میں ملازم رہے ہیں،اس جاب کے دوران انہوں نے ایک گھر بنایا تھا،اور بیوی بچوں کی کفالت بھی بینک کی سیلری سے کی اور ان کی شادیاں کردی،اب ان کا انتقال ہوچکا ہے،مرحوم کی جو وراثت تھی اب ان کے لواحقین میں تقسیم کردی گئی ہے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ جو وراثت میری زوجہ کو ملی ہے وہ ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ انہوں نے اپنی جائیداد بینک کی آمدنی سے بنائی تھی،یہ وراثت ہمارے لیے حلال ہے یا نہیں؟اس سلسلے میں آپ میری شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں
نوٹ: سائل کا سسر اسٹیٹ بینک میں افیسر ٹائپ کے ملازم تھے۔
سائل کےسسر نے بینک ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے جو جائیداد بنائی ہے،تو اگر ورثاء کو اس جائیداد بنانے میں لگائی گئی سودی رقم کا علم ہو،کہ اس جائیداد کو بناتے وقت والد مرحوم نے کتنی رقم سودی شامل کی تھی،تو ایسی صورت میں ورثاء پر اس سودی رقم کے بقدر رقم بلانیت ِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے،اس رقم کو صدقہ کرنے کے بعد انہیں وراثت میں ملی جائیداد کو اپنے استعمال میں لانا جائز ودرست ہوگا۔
کمافی فقہ البیوع: المال المغصوب وما فی حکمہ مثل ما قبضہ الانسان رشوۃً أو سرقۃً أو بعقد باطل شرعاً لایحل لہ الانتفاع بہ ولا بیعہ وھبتہ،ولا یجوز لأحد یعلم ذلک أن یاخذہ منہ شراءً أو ھبۃً أو إرثاً،ویجب ان یردہ الی مالکہ فان تعذر وجب علیہ أن یتصدق بہ عنہ،وأن کان المال نقداً،واشتری بہ شیئاً بالرغم من عدم الجواز،فان اشتری بعین المال الحرام،فلا یجوز الانتفاع بما اشتراہ حتی یؤدی بدلہ الی صاحبہ وھذا القدر متفق علیہ بین الفقھاء،الا ما روی عن ابن مُزین من المالکیۃ،وھو قول مرجوح،أمّا اذا اشتری شیئاً بثمن فی ذمتہ،ثم نقد الثمن من الحرام،فھناک اقوال فی مذاھب الائمۃ الاربعۃ انہ جاز الانتفاع بالمشترَی،وجاز الشراء وقبول الھدیۃ منہ،ولکن الراجح انہ لا یجوز الا بعد اداء البدل الی المالک،او بعد التصدق عنہ ان تعذر اداء البدل الیہ،فان ادی البدل او تصدق بمثلہ،جاز لہ الانتفاع،وجاز لآخر أن یاخذہ منہ ھبۃً أو شراءً أو إرثاً الخ (ج2 ص1052 المبحث العاشر،خلاصۃ البحث ط: معارف القرآن کراتشی باکستان)۔
وفی الاختيار لتعليل المختار: وقال أبو يوسف: يطيب له الفضل؛ لأنه حصل في ضمانه؛ لملكه الأصل ظاهرا؛ فإن المضمونات تملك بأداء الضمان مستندا على ما تقدم. ولهما أنه حصل بسبب خبيث، وهو التصرف في ملك الغير، والفرع يحصل على صفة الأصل، والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.اھ (ج3ص61 کتاب الغصب ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1