گناہ و ناجائز

پانچ مہینہ کے حمل کو ضائع کرنا

فتوی نمبر :
73719
| تاریخ :
2024-06-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پانچ مہینہ کے حمل کو ضائع کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی غیر پیدائشی بچہ سکیلیٹل ڈیسپلاسیا کا شکار ہے اور بچے کی پیدائش کے 2 ہفتے بعد تک بچے کی پیدائش اور بقا کا امکان ہے،کیا ماں اس حمل کو ساقط کرسکتی ہے؟اس کا پانچواں مہینہ شروع ہو چکا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حمل میں جان پڑنے (چار ماہ مکمل ہونے) کے بعد کسی بھی صورت میں حمل کو ساقط کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ یہ قتل کے زمرہ میں آئے گا، صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکور حمل کے چار ماہ مکمل ہو چکے ہیں،لہذا مذکور بیماری کی وجہ سے اس حمل کو ساقط کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ، بلکہ ایک معصوم جان کا قتل ہے جو شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جس سے ہر صورت احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی حاشية ابن عابدين: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح. (3/ 176)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73719کی تصدیق کریں
0     706
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات