مسئلہ یہ ہے کہ ہماری یونین ہر ہفتے ۱۵۰ روپے لے رہی ہے اور اس لیے لے رہی ہے کہ اگر ہم میں سے کسی کی گاڑی کا حادثہ ہو جائے تو اس کو ٹھیک کروائے گی اور اگر کسی نے دو ہفتے ۱۵۰ روپے ادا نہ کیے تو اسے اس گروپ سے نکال دیا جائے گاتو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟ اس کی اسلام میں کیا اجازت ہے؟
صورتِ مسئولہ میں گاڑیوں کی مرمت کیلئے مذکور طریقہ کار بھی بظاہر روایتی انشورنس کی طرح کا معاملہ ہے جو سود قمار و غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے، تا ہم اگر اس کی پوری صورت اور مکمل طریقہ کار لکھ کر بھیج دے تو اس کے بعد غور و فکر کرکے حکم شرعی سے آگاہ کردیاجائےگا۔
کما في احكام القرآن للجصاص : قال الله تعالى( يسئلونك عن الخمر و الميسر قل فيهما اثم كبير) (و فیه) و لا خلاف بین اهل العلم في تحريم القمار و ان المخاطرة من القمار قال ابن عباسؓ أن المخاطرة قمار الخ (باب تحریم المیسر،ج:1،ص:329،ط:سہیل اکیڈیمی)۔
و فی صحیح مسلم : عن ابي هريرةؓ قال نھی رسول اللہ ﷺ عن بيع الحصاة و عن بيع الغررالخ (باب بطلان بیع الحصاۃ والبیع الذی فیہ غرر،ج:2،ص:819،ط:بشری)۔