گناہ و ناجائز

نکاح سے پہلے لڑکی کو سمجھانے کیلئے اس سے بات کرنا

فتوی نمبر :
74424
| تاریخ :
2024-07-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نکاح سے پہلے لڑکی کو سمجھانے کیلئے اس سے بات کرنا

میرا سوال یہ ہے میں اگر کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہوں تو نکاح سے قبل اس کو دیکھنا اور اپنے بارے میں بتانا کہ مجھے کیا پسند ہے یا کیا پسند نہیں ہے، مثلاً نکاح کےبعد آپ کو میری مرضی سے چلنا ہوگا،یا شرعی احکام کی پابندی کرنی پڑےگی،ایسی لڑکی سے بذاتِ خود کہنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ مخطوبہ کو نکاح سے قبل ایک نظر دیکھنے کی گنجائش ہے،لیکن اس کے لیے لڑکی سے باقاعدہ تنہائی میں ملنا،بلاضرورت بات چیت کرنا یا ہنسی مذاق کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،
لہذا سائل کے لیےبھی مخطوبہ کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت ہے،اس کے علاوہ دیگر کاموں کی بالکل بھی اجازت نہیں جس سے احتراز لازم ہے،بلکہ نکاح کے بعد ہی اس کو اپنی پسند یا شرعی احکامات کے بارے میں آگاہ کرنا درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی مشكاة المصابيح: وعن المغيرة بن شعبة قال خطبت امرأة فقال لي رسول الله [ص:933] صلى الله عليه وسلم: «هل نظرت إليها؟» قلت: لا قال: «فانظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» . رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي.(ج2 ص931/932 کتاب النکاح ط: المکتب الاسلامی)۔
وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابیح: وللعلماء خلاف في جواز النظر إلى المرأة التي يريد أن يتزوجها، فجوزه الأوزاعي والثوري وأبو حنيفة والشافعي وأحمد وإسحاق - رحمهم الله - مطلقا، أذنت المرأة أم لم تأذن، لحديثي جابر والمغيرة المذكورين في أول الحسان، وجوزه مالك بإذنها، وروي عنه المنع مطلقا. قال النووي - رحمه الله -: " قيل: المراد بقوله شيئا صغر أو زرقة، وفي هذا دلالة على جواز ذكر مثل هذا للنصيحة، وفيه استحباب النظر إليها قبل الخطبة، حتى إن كرهها تركها من غير إيذاء بخلاف ما إذا تركها بعد الخطبة، وإذا لم يمكنه النظر استحب أن يبعث امرأة تصفها له، وبما يباح له النظر إلى وجهها وكفيها فحسب، لأنهما ليسا بعورة في حقه، فيستدل بالوجه على الجمال وضده، وبالكفين على سائر أعضائها باللين والخشونة " اه. وظاهر جواز إمساسها فإن به يتبين اللين وضده، وهو لا يستفاد من الحديث. (رواه مسلم)الخ(ج6 ص 276 کتاب النکاح ط: حقانیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74424کی تصدیق کریں
0     676
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات