گناہ و ناجائز

میت کے بال صاف کرنا کیساہے

فتوی نمبر :
74472
| تاریخ :
2024-07-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

میت کے بال صاف کرنا کیساہے

میت کے بال صاف کرنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انتقال کے بعد چونکہ میت کسی بھی قسم کی زینت سے بے نیاز ہوجاتی ہے، اس لئے اس کے جسم کے کسی بھی حصہ کے بال کاٹنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق: (قوله: ولايسرح شعره ولحيته، ولايقص ظفره وشعره)؛ لأنها للزينة، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لايجوز. قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لايجوز، والطيب يجوز اھ (ج2،صـــ187)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74472کی تصدیق کریں
0     776
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات