گناہ و ناجائز

فرض نماز کے بعد جہراً کلمہ پڑھنا

فتوی نمبر :
750
| تاریخ :
2004-12-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فرض نماز کے بعد جہراً کلمہ پڑھنا

السلام علیکم! مفتی صاحب! میں نماز پڑھنے جاتا ہوں ، وہاں جماعت کےآواز سے امام صاحب کلمہ پڑھتے ہیں مائیک میں، جس سے نماز میں خلل ہوتا ہے، حدیث کی رو سے بتائیں کہ یہ نماز کے بعد مائیک پر ذکر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فرض نماز کے بعد کلمہ پڑھنا اگرچہ جائز ہے، مگر اتنی اونچی آواز کے ساتھ پڑھنے سے اگر مسجد میں دیگر نماز پڑھنے والوں کی نماز میں خلل واقع ہو ،تو اس طرح مائیک پر جہراً کلمہ پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: ورفع صوت بذكر إلا للمتفقهة الخ
وفی حاشية ابن عابدين: اضطرب كلام صاحب البزازية في ذلك؛ فتارة قال: إنه حرام، وتارة قال إنه جائز وفي الفتاوى الخيرية من الكراهية والاستحسان: جاء في الحديث به اقتضى طلب الجهر به نحو " «وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم» رواه الشيخان. وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار، والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة (إلی قوله) وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ اھ (1/ 660) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ثاقب اسد علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 750کی تصدیق کریں
0     584
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات