السلام علیکم! مجھے عرض یہ کرنا ہے کہ میں نے مسجد میں مفتی صاحب کے ایک درس میں سنا ہے کہ بجلی کا کنڈا لگانا حرام ہے۔ مجھے مفتیانِ کرام سے معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے بل میں کے الیکٹرک نے آٹھ مہینے پہلے تقریباً تین لاکھ روپے کی کنڈے کا جرمانہ لگاکر بھیج دی تھی، جسے صحیح کروانے کےلئے آئی بی سی جانے پر پتا چلا کہ یہ تو بھرنے ہی ہوں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے تین لاکھ کنڈا لگا کر وصول نہ کروں تو کیسے کروں؟ کیونکہ جس اماؤنٹ کی چیز میں نے استعمال ہی نہیں کی، اس کی رقم میرے بل میں لگا کر مجھے مقروض کردیا گیا ہے۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ الیکٹرسٹی بلز میں آئی ایم ایف کے قرض کے سود کے جو پیسے لگ کر آرہے ہیں، وہ ہم کیوں دیں ؟سود پر قرض ہم نے نہیں لیا، ہم صرف بجلی استعمال کررہے ہیں، صرف بجلی کے پیسے چارج کئے جائیں۔
صورتِ مسؤلہ میں کے الیکٹرک والوں کا سائل کو بلاوجہ تین لاکھ کے اضافی چارجز لگا کر بھیجنا اگرچہ ان کی طرف سے ظلم ہے، جس کی جوابدہی انہی کے ذمہ ہوگی۔ تاہم ان کی طرف سے ظلم و زیادتی کی وجہ سے کنڈا لگا کر بجلی چوری کرنا اور ان کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا بھی ظلم ہے جو کہ شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ سائل اپنے اس ظلم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اورمتعلقہ اداروں سے زائد بلوں کی شکایت کرنے کا مجاز ہے۔ جبکہ الیکٹرک سٹی بلز میں سودی اداروں سے حاصل شدہ قرضوں کی ادائیگی ٹیکس وصولی کی صورت میں کرنا سراسر زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے۔ لہٰذا سائل عزتِ نفس کے خیال کے ساتھ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا چاہے یا اس کی ادائیگی سے انکار کی کوئی سبیل پیدا کرلےتو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
کما فی صحیح المسلم: وحدثني أبو كريب محمد بن العلاء،حدثنا أبو أسامة،حدثنا فضيل بن مرزوق،حدثني عدي بن ثابت،عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (أيھا الناس،إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا، و إن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيھا الرسل كلوا من الطيبات و اعملوا صالحا إني بما تعملون عليم}۔ و قال: {يا أيھا الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم}، ثم ذكر الرجل يطيل السفر، أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء،يا رب يا رب،و مطعمه حرام، و مشربه حرام، و ملبسه حرام، و غذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك)۔ الحدیث۔(باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتھا، ج 3، ص 83، ط: دار الطباعۃ العامرۃ)۔
و فی تکملۃ فتح الملھم: و أن المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحۃ، فإن أمر الأمیر بفعل مباح، وجبت مباشرتہ، و إن نھی عن أمر مباح، حرم ارتکابہ، لأن اللہ سبحانہ و تعالی قال: (أطیعوا اللہ و أطیعوا الرسول و أولی الأمر منکم) (إلی قولہ) و لکن ھذہ الطاعۃ کما أنھا مشروطۃ بکون أمر الحاکم غیر معصیۃ، فإنھا مشروطۃ أیضا بکون الأمر صادرا عن ھوی أو ظلم، لأن الحاکم لا یطاع لذاتہ، و إنما یطاع من حیث أنہ متول لمصالح العامۃ، فإن أمر بشیئ اتباعا لھوی نفسہ دون نظر إلی مصالح المسلمین، فإنہ أمر صدر من ذاتہ و شخصہ، لا من حیث کونہ حاکما، فلا یقع بمثابۃ أوامرہ من حیث کونہ حاکما، و لذالک قال الفقھاء:(تصرف الإمام علی الرعیۃ منوط بالمصلحۃ) إلخ۔ (کتاب الإمارۃ، ج 3، ص 323۔324، ط:دار العلوم کراچی)۔
و فی موسوعۃ القواعد الفقھیۃ: ” المظلوم لا یظلم غیرہ“۔ و فی لفظ: المظلوم لہ أن یدفع الظلم عن نفسہ بما قدر علیہ لکن لیس لہ أن یظلم غیرہ۔ و فی لفظ: ”من ظلم لیس لہ أن یظلم غیرہ“ إلخ۔ (قواعد حرف المیم، القاعدتان الرابعۃ و الخامسۃ و الثلاثون بعد الأربعۃ مئۃ، ج 10، ص 704، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
و فی الدر المختار: قال القھستانی: و هی نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذی المال أو به و بعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى و الثاني بالكبرى، بين حكمھا في الآخر؛ لأنھا أقل وقوعا و قد اشتركا في التعريف و أكثر الشروط اه أی؛ لأن المعتبر فی كل منھما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن غين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع و المستعير۔ و فی الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين و بلادهم كما في الفتح إلخ۔ (کتاب السرقۃ، ج 4، ص 82، ط: سعید)۔
و فی الھندية:و لا يجوز حمل تراب ربض المصر لأنه حصن فكان حق العامة فإن انھدم الربض و لا يحتاج إليه جاز كذا فی الوجيز للكردری إلخ۔(کتاب الکراهية، الباب الثلاثون فی المتفرقات، ج 5، ص 373، ط: دار الفکر)۔