میری شادی ہوئی تھی صرف 5 دن شوہر کے ساتھ رہی وہ باہر چلے گئے، ڈیڑھ سال بعد طلاق بھیج دی، اور ان ڈیڑھ سالوں میں معاملات بالکل ٹھیک نہیں رہے، کیا مجھ پر پورے تین حیض عدت گزارنا لازم ہے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہواور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے ایک یا ایک سے زائد مرتبہ صریح طلاق لکھ کر بھیج دی ہو تو اس سے سائلہ پر مذکور طلاق واقع ہوچکی ہے، اور اس صورت میں سائلہ پر عدت (تین ماہواری) گزارنا لازم ہے، اور عدت مکمل ہونے پر سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان اھ(باب العدۃ،ج1،ص526،ط:ماجدیہ)۔
وفیہ ایضاً: أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول، والحربية دخلت دارنا بأمان تركت زوجها في دار الحرب والأختان تزوجهما في عقد واحد فيفسخ بينهما والجمع بين أكثر من أربع نسوة فيفسخ بينهن كذا في التتارخانية ناقلا عن الخزانة. العدة بالنساء بالإجماع كذا في التمرتاشي (باب العدۃ،ج1،ص526،ط:ماجدیہ)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0