میں یو اے ای میں رہتا ہوں، حکومتی قانون کے مطابق تمام تارکینِ وطن اور شہریوں کو ملازمت کی انشورنس (غیر تکافل) کا غیرضروری نقصان حاصل کرنا چاہیے، اس کا پریمیم ہماری طرف سے ماہانہ/سالانہ ادا کیا جاتا ہے، اسے حاصل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں یو اے ای کی حکومت سے جرمانہ عائد ہوتا ہے، اس انشورنس کا مقصد ملازمت سے محروم ہونے کی صورت میں 3 ماہ کے لیے ان کی بنیادی تنخواہ کے 60% کی رقم کے ساتھ افراد کی مدد کرنا ہے، اس رقم سے متاثرہ فرد کو ملازمت سے محرومی کی مدت کے دوران اپنے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی، اس حقیقت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ یہ حکومت کی طرف سے لازمی ہے، کیا چھٹی کی صورت میں اس بیمہ کا دعوی کرنا جائز ہے؟ اس کے علاوہ کوئی بھی شرط لاگو ہوتی ہے اگر متاثرہ افراد کے پاس برطرفی کے دوران آمدنی کا کوئی اور ذریعہ ہو جیسے جائیداد سے کرایہ یا نقد یا زیورات کی شکل میں بچت؟ مزید معلومات درکار ہونے کی صورت میں انشورنس پالیسی کو مزید سمجھنے کے لیے براہِ مہربانی ان کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔ https://www.iloe.ae براہِ مہربانی مشورہ دیں۔
مروجہ انشورنس پالیسی چونکہ قمار اور سودی معاملات پر مشتمل ہوتی ہے، اس لئے عام حالات میں یہ پالیسی لینا اور بعد میں بطورِ کلیم جمع کردہ رقم سے زائد رقم وصول کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، البتہ اگر یو اے ای گورنمنٹ کی طرف سے وہاں کے تمام باشندگان اور کام کرنے والے افراد کے لئے انشورنس کرانا لازم ہو اور وہاں انشورنس کا جائز متبادل ( تکافل) بھی موجود نہ ہو تو قانونی مجبوری کے تحت انشورنس پالیسی لینے کی گنجائش ہوگی، تاہم اگر پالیسی میں پریمیم کے طور پر جمع کی جانے والی رقم ملازمین خود جمع کراتے ہوں یا متعلقہ ادارے ملازمین کی مرضی و اجازت سے ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کر کے یہ رقم جمع کرواتے ہوں تو ایسی صورت میں ضابطے کے مطابق کلیم کرتے وقت جمع کردہ رقم سے زائد رقم وصول کرنا جائز نہ ہوگا، البتہ ملازم کے لئے جمع شدہ رقم کے بقدر رقم وصول کرنا ( خواہ اس کا کوئی اور ذریعہ آمدنی ہو یا نہ ہو ) جائز اور درست ہوگا۔
کما فی قولہ تعالیٰ: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ ( سورۃ البقرۃ: 275 )۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: (عن جابر قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم آكل الربا» ) ، أي: آخذه وإن لم يأكل ، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع كما قال - تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} (ومؤكله) : بهمزة و يبدل أي: معطيه لمن يأخذه ، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم كما تقدم ، قال الخطابي: سوى رسول الله - صلى الله عليه وسلم بين آكل الربا وموكله ، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل ، ( الی قولہ ) (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل الخ(الفصل الاول ، باب الربا ، ج6 ، ص51 ، ط۔ حقانیہ )۔
و فی رد المحتار: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي اھ۔ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، فصل فی البیع ، ج6 ، ص403 ، ط۔ ایم سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر وبيان تمكن الغرر أن الغرر هو الخطر وفي هذا البيع خطر من وجوه: أحدها: في أصل المعقود عليه، الخ ۔ ( کتاب البیوع ، فصل و أما الشرائط الصحۃ ، ج5 ، ص163 ، ط۔ ایم سعید )۔
وفی قواعد الفقہ: الضرورات تبیح المحظورات اھ ( ص 89 )۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0